سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 378 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 378

378 نہیں ہو رہی تھی کہ زیر بحث موضوع کے متعلق سوالات کیے جائیں۔اٹارنی جنرل صاحب اور ممبرانِ اسمبلی خود اصل موضوع کو Avoid اور Side track کر رہے تھے۔اس کے بعد انہوں نے اپنی بات کے حق میں کوئی دلیل پیش کرنے کی بجائے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ڈنمارک کا جو واقعہ بیان کیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا اور اس کے حق میں وہ یہ دلیل لائے کہ ڈنمارک میں احمدیوں کی نسبت دوسرے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔اب یہ سوچنے والی بات ہے کہ نہ یہ بیان کیا گیا تھا اور نہ ہی انہوں نے یہ سوال اُٹھایا تھا کہ یہ واقعہ کب ہوا تھا، کہاں پر ہوا تھا یا اس کی دیگر تفصیلات کیا تھیں۔یہ سب کچھ جانے بغیر وہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ یہ واقعہ ہوا ہی نہیں تھا۔کیا ڈنمارک میں ہونے والا ہر واقعہ ان کے علم میں آتا تھا۔اور یہ بھی کوئی دلیل نہیں کہ ڈنمارک میں غیر احمدی مسلمانوں کی تعداد احمدیوں سے زیادہ ہے۔ڈنمارک میں اب بھی احمدیوں اور غیر احمد یوں مسلمانوں دونوں کی تعداد بہت کم ہے اور کئی مقامات پر ان میں سے کوئی بھی نہیں رہتا اور ایسا واقعہ ہونا کسی طور پر بھی ناممکن نہیں کہلا سکتا۔اس پر اٹارنی جنرل نے پروفیسر غفور صاحب کی اس بات سے اتفاق کیا کہ ان کے سوالات کو Avoid کیا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مرحلہ پر اس وفد کو کچھ کہنے سے روکا گیا تو انہیں یہ عذرمل جائے گا کہ اسمبلی نے ان کو صحیح طرح سنا ہی نہیں۔ایک اور ممبر مولوی نعمت اللہ صاحب نے یہ سوال اُٹھایا کہ اس بات کا صحیح جواب نہیں دیا گیا کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا۔یہ بات بھی قابلِ حیرت ہے کہ آج مولویوں کے گروہ کی طرف سے یہ سوال اُٹھایا جارہا تھا کہ کتنا بڑا ظلم ہوگیا کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا۔انہی مولویوں نے تو قائد اعظم کو کافر اعظم کا نام دیا تھا اور جب عدالتی تحقیقات میں ان سے اس بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ آج تک اپنے خیالات پر قائم ہیں (۵۶)۔اس اسمبلی میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے چند ممبران بھی موجود تھے۔کیا وہ بھول گئے تھے کہ ان کے راہبر اور ان کی پارٹی کے بانی نے کس دھڑلے سے لکھا تھا مگر افسوس کہ لیگ کے قائد اعظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرز فکر رکھتا ہو اور معاملات کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہو۔یہ لوگ مسلمان کے معنی و مفہوم اور اس کی مخصوص حیثیت کو بالکل نہیں جانتے۔‘‘ (۵۷)