سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 370 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 370

370 تھی۔جگہ جگہ احمدیوں کو شہید کیا جارہا تھا اور حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تماشائی بنے کھڑے تھے۔لیکن اسمبلی میں اعتراض احمدیوں پر ہورہا تھا کہ وہ غیر احمدیوں کے جنازے کیوں نہیں پڑھتے اور ان سے شادیاں کیوں نہیں کرتے۔یہ سوال تو پہلے غیر احمدی مسلمانوں سے ہونا چاہئے تھا۔کیا وہ احمدیوں کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے تو اس اعتراض کا حق انہیں نہیں ہو سکتا کہ احمدی غیر احمدیوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔بلکہ جب ۱۹۵۳ء میں تحقیقاتی عدالت میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی پر سوالات کئے گئے تو سوالات کرنے والوں میں ایک مولا نا میکش بھی تھے۔انہوں نے حضور سے سوال کیا عام مسلمان تو احمدیوں کا اس لئے جنازہ نہیں پڑھتے کہ وہ احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں۔آپ بتائیں کہ احمدی جو غیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھتے اس کی اس کے علاوہ کیا وجہ ہے جس کا آپ قبل ازیں اظہار کر چکے ہیں۔“ 66 ( تحقیقاتی عدالت میں امام جماعت احمدیہ کا بیان۔ناشر احمد یہ کتابستان سندھ ،ص ۳۹) اب ایک عدالتی کارروائی میں کتنا واضح اقرار ہیں کہ مولانا جن کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ احمدیوں کو نہ مسلمان سمجھتے ہیں اور نہ ان کا جنازہ پڑھتے ہیں ،مگر اس کے باوجود مولانا کا یہ خیال تھا کہ ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ احمدیوں کو سرزنش فرمائیں کہ وہ غیر احمدیوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔اور اسلام کے باقی فرقوں سے وابستہ اراکین جو یہ اعتراضات احمدیت پر کر رہے تھے ان کا حال یہ تھا کہ ہر فرقہ کے لوگوں نے دوسرے فرقوں پر وہ وہ اعتراضات کیے تھے اور ایسے فتوے لگائے تھے کہ خدا کی پناہ۔اس مرحلہ پر یہ ضروری تھا کہ ان کوکسی قد رآئینہ دکھایا جائے۔چنانچہ جب یہ بحث کچھ دیر چلی تو حضرت خلیفہ اُسیح الثالث نے غیر احمدی علماء کا ایک فتویٰ پڑھ کر سنایا۔اس فتویٰ سے صرف ہندوستان کے علماء نے ہی نہیں بلکہ بلا د عرب کے بہت سے علماء نے بھی اتفاق کیا تھا۔حضور نے اس کے یہ الفاظ پڑھ کر سنائے: وہابیہ دیو بند یہ اپنی تمام عبارتوں میں تمام اولیاء انبیاء حتی کہ حضرت سید الاولین والآخرین لہ کی اور خاص ذات باری تعالیٰ شانہ کی اہانت اور ہتک کرنے کی وجہ سے قطعاً مرتد و کافر ہیں اور ان کا ارتداد کفر میں سخت سخت سخت درجہ تک پہنچ چکا ہے ایسا کہ جوان