سلسلہ احمدیہ — Page 369
369 کے چیئر مین یا جوں کا کام ہوتا ہے۔لہذا گواہوں کو یعنی جماعت کے وفد کو اس بات سے روکا جائے کہ وہ استدلال کریں۔جہانگیر علی صاحب کی طرف سے یہ ایک لا یعنی فرمائش تھی۔سوالات کرنے والوں کی طرف سے جماعت کی تعلیمات پر اعتراض کیے جارہے تھے اور سیاق و سباق اور پس منظر سے الگ کر کے جماعتی تحریرات کے حوالے پیش کیے جا رہے تھے۔لیکن ان صاحب کے نزدیک جماعتی وفد کو اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہئے تھی کہ وہ ان کے متعلق جماعتی موقف کے مطابق استدلال پیش کرے۔اگر سپیشل کمیٹی میں جماعتی وفد کو بلانے کا مقصد صرف یہی تھا کہ وہ ممبرانِ اسمبلی کے غیر متعلقہ سوالات سنے ان کے تبصرے سنے لیکن ان کے جواب میں اپنا استدلال نہ پیش کرے تو اس لغو عمل کو کوئی بھی ذی ہوش قبول نہیں کر سکتا۔اس کے جواب میں سپیکر صاحب نے صرف یہ کہا کہ حج تو آپ ہی لوگ ہیں اور اٹارنی جنرل صاحب جب چاہیں اس ضمن میں درخواست کر سکتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد جماعت کا وفد داخل ہوا۔سپیکر صاحب نے اظہار کیا کہ سوالات کا یہ سلسلہ دو تین دن جاری رہ سکتا ہے پوری کارروائی کے لئے حلف ہو چکا ہے یعنی نئے سرے سے گواہ سے حلف لینے کی ضرورت نہیں۔اس کارروائی کے آغاز میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے گزشتہ روز کی بحث کے تسلسل میں سلف صالحین کے حوالے سے یہ بات فرمائی کہ کفر دو قسم کا ہے ایک کفر وہ ہے جو ملتِ اسلامیہ سے نکالنے کا باعث ہوگا اور دوسراوہ جو ملت اسلامیہ سے باہر نکالنے کا باعث نہیں ہوگا۔اور یہ بھی فرمایا کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے وہی پرانے اعتراضات دہرائے جو عموماً جماعت کے مخالفین کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔یعنی احمدی غیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھتے ، ان سے شادیاں نہیں کرتے۔ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا۔اب ذرا تصور کریں کہ یہ کارروائی ۱۹۷۴ ء کے فسادات کے دوران ہو رہی تھی جبکہ خود اخبارات لکھ رہے تھے کہ علماء کی تحریک کے نتیجہ میں پاکستان بھر میں احمدیوں کا بائیکاٹ شروع ہو گیا ہے اور ان دنوں میں احمدیوں کا جنازہ پڑھنا تو دور کی بات ہے، احمدیوں کی تدفین میں بھی رکاوٹیں ڈالی جا رہی تھیں بعض مقامات پر احمدیوں کی قبروں کو اکھیڑ کر ان کی نعشوں کی بے حرمتی کی جا رہی