سلسلہ احمدیہ — Page 364
364 یعنی اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں یا ہم نے اطاعت کر لی ہے۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ کیا احمدیوں میں بھی اس قسم کے مسلمان ہیں؟ اس پر حضور نے جواب دیا کہ احمدیوں میں بھی ایک ایسا گروہ ہے جو کہ مخلص ہے اور دوسرا گروہ بھی ہے۔اس پر پھر اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ پھر وہ بھی کا فر ہوئے اس حد تک۔اس پر حضور نے جواب دیا ” اس حد تک وہ بھی کافر ہوئے۔“ اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنی طرف سے نیک نیتی سے انکار کرتا ہے تو اس کی کیا حیثیت ہے؟ اس پر حضور نے فرمایا یہ دوسری Category ہے۔وہ گنہ گار ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے پھر سوال کیا کہ وہ شخص کسی Category میں کافر ہے؟ اس پر حضور نے فرمایا ” جس طرح نماز نہ پڑھنے والا۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا ” بس اتنا ہے کہ یہ مسلمان رہتا ہے۔“ اس پر حضور نے پھر فرمایا کہ یہ مسلمان رہتا ہے اس واسطے میں نے اس کی وضاحت کی ہے۔“ اس وضاحت کے بعد بھی اٹارنی جنرل صاحب یہ گفتگو چلاتے رہے اور ان لوگوں کے متعلق سوال کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اتمام حجت کے بعد نبی نہیں مانتے۔اس پر حضور نے پھر جواب دیا کہ جو شخص حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا اور اپنے آپ کو ) آنحضرت وو کی طرف منسوب کرتا ہے اس کو غیر مسلم کہہ ہی نہیں سکتے۔“ یہ حصہ بہت اہم تھا اور اس میں بہت سے ضروری نکات سے استفادہ کیا جانا چاہئے تھا لیکن افسوس حضور جو عربی کا حوالہ پڑھتے تھے اس پر ریکارڈ لکھنے والے صرف۔” عربی“ لکھنے پر ہی اکتفا کرتے تھے۔ورنہ حضور کے یہ ارشادات زیادہ تفصیل کے ساتھ سامنے آتے۔اور ان سے استفادہ کیا جاتا۔اور یہ بات صرف احمدیوں کے لٹریچر تک محدود نہیں کہ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جن پر ایک لحاظ سے کفر کا لفظ تو آتا ہے لیکن وہ پھر بھی ملت اسلامیہ میں ہی رہتے ہیں اور ان کو عرف عام میں مسلمان ہی کہا جاتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اس کا رروائی کے دوران پرانے علماء میں سے مشہور علامہ ابن تیمیہ کا حوالہ دیا۔وہ اپنی تصنیف کتاب الایمان میں لکھتے ہیں: