سلسلہ احمدیہ — Page 355
355 اسمبلیوں میں انسان شامل ہوتے ہیں کوئی مجسمے تو اسمبلیوں کی زینت نہیں بنتے۔یہ واویلا صرف نورانی صاحب تک محدود نہیں تھا۔ایک اور مر عبدالعزیز بھٹی صاحب نے بھی کھڑے ہو کر کہا کہ گواہ یعنی حضرت خلیفہ اسیح الثالث سوال کو Avoid کرتے ہیں اور تکرار کرتے ہیں۔چیئر کا یعنی پیکر صاحب کا فرض ہے کہ انہیں اس بات سے روکا جائے۔جہاں تک تکرار کا سوال ہے تو اس کا جواب پہلے آچکا ہے کہ اگر سوال دہرایا جائے گا تو اس کا جواب بھی دہرایا جائے گا۔سپیکر صاحب نے انہیں جواب دیا کہ اگر اٹارنی جنرل صاحب یہ بات محسوس کریں کہ سوالات کے جواب نہیں دیئے جار ہے تو وہ چیئر سے اس بات کی بابت استدعا کر سکتے ہیں۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ ان کے لئے ضروری ہی نہیں ہے کہ وہ سوال کا جواب دیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے سپیکر صاحب سے کبھی یہ استدعا کی ہی نہیں کہ ان کے سوال کا جواب نہیں دیا جارہا کیونکہ جوابات تو مل رہے تھے لیکن سننے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔عبدالعزیز صاحب نے کہا: "The conduct of the witness is not coming before the house as to how he is behaving۔۔۔۔۔۔وو یہ تبصرہ غالباً اسی ذہنی الجھن کی غمازی کر رہا تھا کہ ہم تو امید لگا کر بیٹھے تھے کہ یہ مجرم کی طرح پیش ہوں گے اور یہ الٹ معاملہ ہو رہا ہے ہمیں ہی خفت اٹھانی پڑ رہی ہے۔اس کے بعد مولا بخش سومر و اور اتالیق شاہ صاحب نے بھی یہی اعتراض کیا کہ جوابات Evasive دیئے جا رہے ہیں۔جب تک وہ ایک سوال کا جواب نہ دے دیں دوسری بحث میں نہ پڑا جائے۔ان سے رور عایت نہ کی جائے۔اس پر سپیکر صاحب نے جواب دیا کہ اس معاملے میں اسی وقت ہی مداخلت کی جائے گی جب اٹارنی جنرل صاحب اس بارے میں استدعا کریں گے۔آئینہ صداقت اور انوار خلافت کے حوالہ جات پر اعتراض اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں کئی روز یہ اعتراض بار بار پیش کیا گیا کہ جماعت کی بعض کتب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ ماننے والوں کے متعلق کفر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یا انہیں کافر کہا گیا