سلسلہ احمدیہ — Page 354
354 سوال کرتے تو ان میں سے اکثر غیر متعلقہ اور خام سوال ہوتے اور جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث سوال کر کے کسی اصطلاح یا سوال کے کسی مبہم پہلو کی وضاحت کرتے تو ان سوالات سے ہی یہ واضح ہو جاتا کہ یہ سوالات پختہ ذہن سے نہیں کئے گئے۔جب ۵ /اگست کی کارروائی ختم ہوئی اور حضرت خلیفة امسیح الثالث جماعتی وفد کے دیگر اراکین کے ہمراہ جب ہال سے تشریف لے گئے تو ممبرانِ اسمبلی کا غیظ و غضب دیکھنے والا تھا۔اس وقت ان کے بغض کا لاوا پھٹ پڑا۔ایک ممبر میاں عطاء اللہ صاحب نے بات شروع کی اور کہا I have another point some of the witnesses who were here, for instances, Mirza Tahir, they were unnecessarily۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس جملہ کی اٹھان سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے متعلق کچھ زہر اگلنا چاہتے ہیں لیکن ان کا تبصرہ سپیکر کے Just a minute کہنے سے ادھورا ہی رہ گیا۔اس کے فوراً بعد شاہ احمد نورانی صاحب نے جھٹ اعتراض کیا: وو وہ لوگ ہنستے بھی ہیں۔باتیں بھی کرتے ہیں اس طرف دیکھ کر مذاق بھی کرتے ہیں اور سر بھی ہلاتے ہیں۔آپ ان کو بھی چیک فرما ئیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر جماعت کے وفد کی طرف سے کوئی نا مناسب رویہ ظاہر ہوتا تو یہ کارروائی سپیکر کے زیر صدارت ہو رہی تھی اور وہ اسی وقت اس کا نوٹس لے سکتے تھے اور اٹارنی جنرل صاحب جو سوالات کر رہے تھے اس پر اعتراض کر سکتے تھے لیکن ساری کارروائی میں ایک مرتبہ بھی انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اصل میں نورانی صاحب اور ان جیسے دوسرے احباب کو یہ بات کھٹک رہی تھی کہ وہ اس خیال سے آئے تھے کہ آج ان کی فتح کا دن ہے اور خدانخواستہ جماعت احمدیہ کا وفد اس سیاسی اسمبلی میں ایک مجرم کی طرح پیش ہوگا لیکن جو کچھ ہورہا تھاوہ ان کی تو قعات کے بالکل برعکس تھا۔لیکن کارروائی کے دوران جماعت کا وفد حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی اعانت کر رہا تھا اور اس عمل میں ظاہر ہے آپس میں بات بھی کرنی پڑتی ہے اور اس عمل میں چہرے پر کچھ تاثرات بھی آتے ہیں۔اور اسمبلی میں مسکرانا اور سر کو ہلانا کوئی جرم تو نہیں کہ اس کو دیکھ کر نورانی صاحب طیش میں آگئے۔آخر