سلسلہ احمدیہ — Page 353
353 اور مسٹر مودودی سے تحقیر ظاہر ہوتی ہے۔یہ بات میں نہیں سمجھ سکا تحقیر کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔لیکن اٹارنی جنرل صاحب اسی بات کو دہراتے رہے کہ اس طرح مودودی صاحب کے بارے میں تو اضع کا رویہ نہیں دکھایا گیا۔انہوں نے ایسی کج بحثی کا مظاہرہ کیا کہ خود سپیکر اسمبلی کو کہنا پڑا کہ یہ مناظرہ ختم کر کے وہ معین سوال کریں۔یعنی اٹارنی جنرل صاحب یا اسمبلی کو تو یہ اختیار ہے کہ وہ جس کے متعلق پسند کریں اسے غیر مسلم کہہ دیں لیکن اگر انگریزی میں مودودی صاحب کو مسٹر مودودی کر کے لکھا جائے اور ان کو مولا نا نہ کہا جائے تو یہ ایسی تحقیر ہے کہ اس کا سوال خود اسمبلی میں اٹھایا جائے جب کہ بحث کا مقصد یہ ہو کہ ختم نبوت کو نہ ماننے والوں کا اسلام میں کیا مقام ہے اور سوال یہ اٹھایا جائے کہ مودودی صاحب مسٹر ہیں یا مولانا ہیں۔ابھی یحیی بختیار صاحب اس جنجال سے باہر نہیں نکلے تھے کہ انہوں نے اپنے دلائل کی زنبیل میں سے ایک اور دلیل باہر نکالی۔اور کہا کہ انگلستان میں جماعت احمدیہ نے ایک ریزولیشن پاس کیا ہے جس میں Non Ahmadiyya Pakistani کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔مطلب یہ تھا کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہیں کہا گیا۔اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ خبر وہاں کے اخباروں میں آئی ہے آپ بے شک Verify کر لیں۔اور کہا کہ اس کی ایک کاپی حضور کو دی جائے۔مغرب کی نماز کے بعد حضرت صاحب نے وضاحت کے لیے کہا کہ اس کا پی پر تو کسی اخبار کا نام نہیں ، یہ کس اخبار کا حوالہ ہے۔تو اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ کس اخبار میں خبر آئی تھی جس کا وہ حوالہ دے رہے تھے، انہوں نے صرف یہ کہہ کر اپنی جان چھڑائی کہ یہ مجھے ڈائرکٹ ملا ہے۔میں معلوم کروں گا کہ کس اخبار میں خبر آئی تھی۔اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے کارروائی سے قبل کوئی سنجیدہ تیاری نہیں کی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ ممبران اسمبلی خاص طور پر جماعت کے مخالفین کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔بحث ان کی امیدوں کے برعکس جارہی تھی۔وہ غالباً اس امید میں مبتلا تھے کہ جماعت کا وفد خدانخواستہ ایک ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہو گا اور ان کے ہر نا معقول تبصرہ کو تسلیم کرے گا اور اس پس منظر میں جب کہ ملک میں احمدیوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی ، جماعت کا وفد ان سے رحم کے لیے درخواست کرے گا۔مگر ایسا نہیں ہو رہا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب ممبرانِ اسمبلی کے دیئے ہوئے جو