سلسلہ احمدیہ — Page 351
351 نہیں بلکہ تنگ نظری کی کھائی میں گرتا ہی چلا جاتا ہے۔جب تک کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے واپسی کا سفر شروع نہ کرے۔پاکستان بھی تنگ نظری کی کھائی میں گرتا چلا گیا۔اور ۱۹۸۴ء کے آرڈینینس میں جماعت سے اپنا مذہب profess, practice اور propagate کرنے کے حقوق چھینے کی کوشش بھی کی گئی اور یہ تعصب صرف جماعت احمد یہ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اور اس وقت سے اب تک کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان میں احمدیوں کے حقوق محفوظ نہیں رہے۔جب اٹارنی جنرل صاحب نے اس بات پر زوردیا کہ اگر آپ کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے تو اس سے آپ کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے۔اس پر حضور نے واضح طور پر فرمایا Then we do not want our rights to be protecetd۔یعنی اس صورت میں ہم نہیں چاہتے کہ اس طرح ہمارے حقوق محفوظ کئے جائیں۔اس دوٹوک جواب کے بعد یحیی بختیار صاحب کے سوالات کی ڈولتی ہوئی ناؤ نے کسی اور سمت کا رخ کیا۔پھر اٹارنی جنرل صاحب نے سوالات پوچھے کہ کیا احمدی مرزا صاحب کو نبی سمجھتے ہیں۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے یہ پر معارف جواب دیا کہ نہیں ہم انہیں امتی نبی سمجھتے ہیں۔اور فرمایا کہ نبی ہونے اور امتی نبی ہونے میں بہت فرق ہے۔جب اٹارنی جنرل صاحب نے وضاحت کرنے کے لیے کہا تو اس پر حضور نے فرمایا۔امتی نبی کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے عشق و محبت میں اپنی۔۔۔زندگی گزار رہا ہے۔اس کو ہم امتی کہیں گے۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ۔۔۔۔۔میری اتباع کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کو پاؤ گے۔امتی کے معنی یہ ہیں کہ حضرت بانی احمد یہ نبی اکرم علی کے کامل متبع تھے۔اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی روحانی برکت اور فیض نبی اکرم ﷺ کی اتباع کے بغیر حاصل ہو نہیں سکتا۔“ اس کے بعد یہ بات شروع ہوئی کہ احمدیوں کے نزدیک جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرے اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے اور کفر کے کیا کیا مطالب ہو سکتے ہیں، شرعی اور غیر شرعی نبی میں کیا