سلسلہ احمدیہ — Page 344
344 جائے گا تو پڑھنے والے ان کی حقیقت کے متعلق خود اپنی رائے قائم کر سکیں گے۔۵ اگست کے روز جب کارروائی شروع ہوئی تو آغاز میں سپیکر اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی صاحب نے کہا کہ اس وقت اٹارنی جنرل چیمبر میں مولانا ظفر احمد انصاری صاحب سے مشورہ کر رہے ہیں اور ان کے آنے پر چند منٹ میں ہم کارروائی کا آغاز کریں گے۔پھر سپیکر اسمبلی نے اعلان کیا کہ کارروائی کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ جس نے سوال کرنا ہے وہ اپنا سوال لکھ کر دے گا اور اٹارنی جنرل یہ سوال جماعت کے وفد سے کریں گے۔کارروائی کے آغاز پر اٹارنی جنرل بیٹی بختیار صاحب نے حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کو حلف اُٹھانے کے لئے کہا۔حضرت صاحب کے حلف اُٹھانے کے بعد اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ آپ نے ان سوالات کے جواب دینے ہیں جو پوچھے جائیں گے اور اگر آپ کسی سوال کا جواب دینا پسند نہ کریں تو آپ انکار کر سکتے ہیں۔لیکن اس انکار سے سپیشل کمیٹی کوئی نتیجہ اخذ کر سکتی ہے جو آپ کے حق میں اور آپ کے خلاف بھی ہوسکتا ہے۔اور اگر آپ کسی سوال کا فوراً جواب نہ دینا پسند کریں تو آپ اس کے لیے وقت مانگ سکتے ہیں۔پیشتر اس کے کہ ہم ان سوالات کا جائزہ لیں جو پوچھے گئے اور ان جوابات کو دیکھیں جو دئیے گئے یہ امر پیش نظر رہے کہ اس پیشل کمیٹی کے سپرد یہ کام تھا کہ یہ فیصلہ کرے کہ اسلام میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو رسول کریم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے۔اور ان کے سپر داس مسئلہ کے متعلق آراء جمع کرنا اور اس مسئلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز تیار کرنا تھا۔یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ خواہ کسی کمیٹی کی تحقیقاتی کارروائی ہو یا کوئی عدالتی کارروائی ہو اور سوال پوچھے جائیں تو یہ سوالات پیش نظر مسئلہ کے بارے میں ہونے چاہئیں یا کم از کم ان سوالات کا اس مسئلہ کے متعلق تجاویز مرتب کرنے سے کوئی واضح تعلق ہونا چاہئے یا کم از کم سوالات کی اکثریت کا تعلق اس مسئلہ سے ہونا چاہئے۔اگر کوئی ایک غیر متعلقہ سوال بھی پوچھے تو یہ بھی قابل اعتراض ہے کجا یہ کہ کوئی کئی روز غیر متعلقہ سوالات پوچھتا جائے۔کارروائی کے آغاز سے یہ امر ظاہر تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب غیر متعلقہ سوالات میں وقت ضائع کر رہے ہیں اور اصل موضوع پر آنے سے کترا رہے ہیں۔ان کا پہلا سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں تھا۔اگر یہ پیش نظر رہے کہ یہ کیٹی کس مسئلہ پر غور کر ہی تھی تو یہی ذہن میں آتا