سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 343 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 343

343 کی چنوائی کر کے احمدیوں کے دروازے بند کر دیئے اور ملاں لوگ طرح طرح کی دھمکیاں دیتے رہتے۔کوئی احمدی بازار میں نکلتا تو اس کے پیچھے اوباش مخالفین لگ جاتے۔اس ضلع کے احمدی صبر و استقامت سے ان مظالم کو برداشت کرتے رہے۔ایک مولوی ایک احمدی کے گھر پر آیا اور خاتونِ خانہ سے کہنے لگا کہ مسلمان ہو جاؤ ورنہ رات کو مکینوں سمیت گھر کو آگ لگا دیں گے۔اس بہادر خاتون نے کہا کہ میں اور بچے اس وقت گھر میں ہیں تم رات کی بجائے ابھی آگ لگا دو۔یہ سن کر ملاں گالیاں دینے لگا۔غلام محمد صاحب اوکاڑہ شہر سے جا کر ایک گاؤں کے پرائمری سکول میں پڑھاتے تھے۔ان کو راستہ میں ایک شخص نے کلہاڑی مار کر شہید کر دیا۔قاتل کو کچھ عرصہ گرفتاری کے بعد رہا کر دیا گیا۔اس پس منظر میں جب ۲۸ / جولائی کو وزیر اعلیٰ ساہیوال آئے تو احمدیوں کے ایک وفد نے ان سے ملنے کی درخواست کی تو انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا۔دوبارہ درخواست پر انہوں نے کہا کہ لاہور آ کر ملیں۔جب یہ لوگ لاہور گئے تو وہاں بھی وزیر اعلیٰ نے ملنے سے انکار کر دیا۔۵ راگست کو کارروائی شروع ہوتی ہے اب ہم اس کا روائی کا جائزہ لیں گے جو پوری قومی اسمبلی پر مشتمل پیشل کمیٹی میں ہوئی۔اور اس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث پر کئی روز تک سوالات کا سلسلہ چلا۔یہ جائزہ قدرے تفصیل سے لیا جائے گا۔جیسا کہ جلد ہی پڑھنے والے اندازہ لگالیں گے کہ اکثر سوالات تو بچگانہ تھے لیکن پھر بھی اس کارروائی کی ایک اہمیت ہے۔وہ اس لئے کہ اس کے بعد دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک سیاسی اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک گروہ کے مذہب کا کیا نام ہونا چاہئے۔اور اس لئے بھی کہ یہ ایک بین الاقوامی سازش کا ایک اہم حصہ تھا۔اس کے علاوہ مخالفین جماعت کی طرف سے بار ہا اس کا رروائی کے متعلق غلط بیانی سے کام لے کر اپنے کار ہائے نمایاں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ہر ایک نے اپنے سر پر سہرا باندھنے کی کوشش کی ہے کہ یہ اصل میں میں ہی تھا جس کی ذہانت کی وجہ سے یہ فیصلہ سنایا گیا۔سوالات اور ان کی حقیقت جب بیان کی جائے گی تو پڑھنے والوں کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ ذہانت یا یوں کہنا چاہئے کہ اس کے فقدان کا عالم کیا تھا۔اور اس کا رروائی میں وہی گھسے پٹے سوالات کئے گئے تھے جو کہ عموماً جماعت کے مخالفین کی طرف سے کئے جاتے تھے۔جب ان کا جواب درج کیا