سلسلہ احمدیہ — Page 26
26 اس کے علاوہ ۱۷ دیگر کتب شائع ہوئی ہیں جبکہ خطابات شوری کی تدوین واشاعت کا کام بھی جاری ہے۔یہ خطبات اور تصانیف جماعت احمدیہ بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک عظیم علمی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔اسی طرح قیام کے معا بعد ہی فضل عمر فاؤنڈیشن نے حضرت مصلح موعود کی سوانح حیات پر کام شروع کیا۔ابتدا میں یہ کام مکرم و محترم ملک سیف الرحمن صاحب کے سپرد کیا گیا۔مکرم ومحترم ملک سیف الرحمن صاحب نے مواد جمع کرنا شروع کیا اور ۱۹۷۰ ء تک تقریباً ایک ہزار صفحات کا مسودہ تیار ہو چکا تھا۔اور ایک بورڈ آف ایڈیٹرز اس کا جائزہ لے رہا تھا۔اس کے بعد فاؤنڈیشن نے یہ کام حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے سپرد کیا۔آپ پر بہت سے جماعتی کاموں کے بوجھ تھے۔اس لئے اس مسودہ کو حتمی شکل دینے میں زیادہ وقت لگا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء کو جلسہ سالانہ کی تقریر میں فرمایا: پھر حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کی سوانح حیات کی تیاری گو ۶۶۔۶۷ ء سے شروع ہے لیکن اب ۷۲ ، ختم ہو رہا ہے مگر ابھی تک وہ آخری شکل میں ہمارے سامنے نہیں آئی پہلے ملک سیف الرحمن صاحب نے ایک مسودہ ایک کمیٹی کے مشورہ کے ساتھ تیار کیا۔پھر فاؤنڈیشن نے کہا نہیں یہ بھی درست نہیں۔اب یہ کام میاں طاہر احمد صاحب کے سپرد ہے کہ وہ اس کو از سر نو لکھیں یا ملک سیف الرحمن صاحب کے تیار کردہ مسودہ کی اصلاح کریں یا جیسے بھی مناسب ہو۔بہر حال یہ کتاب اب تک چھپ جانی چاہئے تھی لیکن اب تک نہیں چھپ سکی۔(۱۴) ۱۹۷۵ء میں سوانح فضل عمر کی پہلی جلد شائع ہو کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئی۔یہ کتاب جماعت کے لٹریچر میں ایک قیمتی اضافہ تھی۔اس کی پہلی جلد ۱۹۷۵ء میں شائع ہوئی۔دوسری جلد بھی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے تصنیف فرمائی۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو منصب خلافت پر سرفراز فرمایا تو مکرم عبدالباسط شاہد صاحب مربی سلسلہ نے اس کام کو مکمل کیا۔مقالہ جات حضرت مصلح موعودؓ کی شدید خواہش تھی اور آپ نے جماعت کو بار بار اس طرف توجہ بھی دلائی