سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 328 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 328

328 ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعائیں سنی نہیں جائیں گی کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں۔۔۔کوئی زمین پر مر نہیں سکتا جب تک آسمان پر نہ مارا جائے۔میری روح میں وہی سچائی ہے جو ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی۔مجھے خدا سے ابراہیمی نسبت ہے۔کوئی میرے بھید کو نہیں جانتا مگر میرا خدا مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔میں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔۔۔اے خدا!! تو اس امت پر رحم کر۔آمین ( ضمیمہ اربعین نمبر ۴ صفحہ ۵ تاے۔روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۴۷۱ تا ۴۷۳) اس وقت پورے ملک میں جماعت احمدیہ کے خلاف پورے زور وشور سے ایک مہم چلائی جارہی تھی اور احمدیوں پر ہر طرف سے ہر قسم کے الزامات کی بارش کی جارہی تھی۔اس محضر نامہ میں اس قسم کے کئی اعتراضات کے جوابات بھی دیئے گئے تھے تا کہ پڑھنے والوں پر ان اعتراضات کی حقیقت آشکار ہو۔یکم جولائی سے پندرہ جولائی تک کے حالات ایک طرف تو ان کمیٹیوں میں کارروائی ان خطوط پر جاری تھی اور دوسری طرف ملک میں احمدیوں کی مخالفت اپنے عروج پر تھی۔اور یہ سب کچھ علی الاعلان ہورہا تھا۔یہاں تک کہ اخبارات میں طالب علم لیڈروں کے بیانات شائع ہو رہے تھے کہ نہ صرف کسی قادیانی طالب علم کو تعلیمی اداروں میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا بلکہ جن قادیانی طالب علموں نے امتحان دینا ہے انہیں اس بات کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی کہ وہ امتحانات دے سکیں۔اور یہ بیانات شائع ہورہے تھے کہ اہل پیغام میں سے کچھ لوگ کچھ گول مول اعلانات شائع کر کے اپنے کاروبار کو بائیکاٹ کی زد سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کے اعلانات کو صرف اس وقت قبول کیا جائے گا جب وہ اپنے اعلانات میں واضح طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر اور کاذب کہیں ورنہ ان کے کاروبار کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے۔اور اس کے ساتھ یہ مضحکہ خیز اپیل بھی کی جارہی تھی کہ عوام پر امن رہیں۔گویا ان لوگوں کے نزدیک یہ اعلانات ملک میں امن و امان کی فضا قائم کرنے کے لیے تھے۔(۳۷) یکم جولائی سے پندرہ جولائی ۱۹۷۴ ء تک کے عرصہ میں بھی ملک میں احمدیوں پر ہر قسم کے مظالم جاری رہے۔اس دوران مخالفین احمدیوں کے خلاف بائیکاٹ کو شدید تر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا