سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 24 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 24

24 پاس پچاس آدمی لائبریرین ہونا چاہئے۔جن میں سے کچھ نئی کتابوں کو پڑھنے میں لگا ر ہے۔کچھ پرانی کتابوں کے خلاصے تیار کرنے میں لگا رہے۔کچھ ایسے ہوں جو طلباء کے لئے نئی نئی کتابوں کے ضروری مضامین الگ کرتے جائیں۔(۱۱) حضرت مصلح موعودؓ کے ان ارشادات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی شدید خواہش تھی کہ جماعت کی اپنی معیاری لائبریری ہو جو فقط ایک عام لائبریری نہ ہو بلکہ ایک تحقیقاتی ادارے کی طرز پر کام کرے کیونکہ اس سے تبلیغ اسلام کے بہت سے اہم کام وابستہ ہیں۔موجودہ دور میں کتابوں کے ساتھ کسی بھی لائبریری کے لئے ایک معیاری عمارت بھی نہایت ضروری ہوتی ہے۔چنانچہ فضل عمر فاؤنڈیشن نے حضور کے اس ارشاد کے احترام میں ربوہ میں لائبریری کی ایک عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔جب اس پر اجیکٹ پر کام ہو رہا تھا تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لائبریریوں کے متعلق میں ایک اور بات بھی کہہ دیتا ہوں اور وہ یہ کہ لائبریریوں کی طرف جماعت کو توجہ نہیں۔جہاں توجہ پیدا ہوتی ہے وہاں غلط توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔لائبریری کا مقصد یہ ہے کہ ایسی کتابیں رکھی جائیں جو کتاب بینی کے روحانی شوق کو پورا کرنے والی ہوں۔"روحانی" کے لفظ کا اضافہ میں جان بوجھ کر کر رہا ہوں۔کتاب بینی کا شوق پورا کرنے کے لئے لوگ عمرو عیار کی عیاریاں بھی پڑھتے ہیں اور حمید و فریدی کے ناولوں کا مطالعہ بھی کرتے ہیں حالانکہ وہ بالکل بے معنی ہیں۔گو وہ بڑی کثرت سے بک رہے ہیں لیکن وہ انسان کی روحانی پیاس نہیں بجھاتے اور لائبریری کا مقصد روحانی پیاس کے بجھانے کا سامان پیدا کرنا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لائبریریوں کے قیام کی طرف توجہ نہیں کریں گے تو ہماری روحانی پیاس نہیں مجھے گی اور ہمارے اندر روحانی کمزوری پیدا ہو جائے گی۔‘(۱۲) اب تک مرکزی لائبریری پرائیویٹ سیکریٹری کے دفتر کے تین کمروں میں محدود تھی۔فضل عمر فاؤنڈیشن نے ایک جاذب نظر عمارت تیار کر کے صدر انجمن احمد یہ کے حوالے کی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس کا افتتاح ۳/ اکتوبر ۱۹۷۱ء کو فرمایا۔تقریب افتتاح سے خطاب فرماتے