سلسلہ احمدیہ — Page 318
318 صاحب وفد سے سوال کریں گے۔بیٹی بختیار صاحب نے اپنی عمر کے آخری سالوں میں ۷۴ کی کارروائی کے متعلق ایک انٹرویو دیا اور اس میں یہ دعوی کیا کہ یہ اس لئے کیا گیا تھا کہ احمدیوں کو خیال تھا کہ اگر مولوی ہم سے سوال کریں گے تو ہماری بے عزتی کریں گے اس لئے جے اے رحیم نے یہ تجویز دی کہ سولات اٹارنی جنرل کی وساطت سے پوچھے جائیں۔( تحریک ختم نبوت جلد سوم، مصنفہ اللہ وسایا صاحب، ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، حضوری باغ روڈ ملتان ، جون ۱۹۹۵ ء ص ۸۷۲ ان کے اس بیان سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس وقت احمدیوں کے جذبات کا اس قدر خیال رکھ رہی تھی کہ انہیں اس بات کی بھی بہت پر واہ تھی کہ کہیں احمدیوں کی بے عزتی بھی نہ ہو جائے۔حالانکہ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ احمدیوں کو قتل و غارت کا نشانہ بنایا جارہا تھا اورحکومت فسادات کو روکنے کی بجائے خود احمدیوں کو مورد الزام ٹھہرا رہی تھی۔اس بیان کا سقم اس بات سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے کہ یحییٰ بختیار صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ احمدی اس بات سے پریشان تھے کہ مولوی ان کی بے عزتی کریں گے اور اس صورتِ حال میں جے اے رحیم صاحب نے یہ تجویز دی کہ اٹارنی جنرل صاحب سوالات کریں۔مگر یہ بیان دیتے ہوئے بیچی بختیار صاحب ایک بات چیک کرنا بھول گئے تھے۔جے اے رحیم صاحب کو ۳ جولائی ۱۹۷۴ء کو وزیر اعظم بھٹو صاحب نے برطرف کر دیا تھا کیونکہ بقول ان کے، جے اے رحیم صاحب کا طرز عمل پارٹی ڈسپلن کے خلاف تھا (مشرق ۴ جولائی ۱۹۷۴ ص۱)۔اور ظاہر ہے کہ یہ شدید اختلافات ایک رات پہلے نہیں شروع ہوئے تھے ان کا سلسلہ کافی پہلے سے چل رہا تھا۔قومی اسمبلی کی کارروائی اس سے بہت بعد شروع ہوئی تھی۔اور اس کارروائی کے خدو خال تو سٹیرنگ کمیٹی میں طے ہوئے تھے اور اس کا قیام ۳ جولائی کو ہی عمل میں آیا تھا۔اور یہ فیصلہ کہ حضور جماعت کے وفد کی قیادت فرمائیں گے بھی اس تاریخ کے بعد کا ہے۔بلکہ جے اے رحیم کے استعفیٰ کے وقت تک تو ابھی یہ فیصلہ بھی نہیں ہوا تھا کہ جماعت کا وفد قو می اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں اپنا موقف پیش کرے گا۔چنانچہ جب یہ وقت آیا تو جے اے رحیم صاحب اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں کہ کسی طرح اس قسم کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے۔لیکن بہر حال جب ہم نے اس وقت قومی اسمبلی کے سپیکر مکرم صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب