سلسلہ احمدیہ — Page 314
314 اس اجلاس میں بارہ رکنی ایک راہبر کمیٹی (Steering Committee) بھی قائم کی گئی جس میں اپوزیشن اور حکومت دونوں کے اراکین شامل تھے۔بعد میں اس میں مزید اراکین کا اضافہ کر دیا گیا۔اور یہ طے پایا کہ ۶ / جولائی کی صبح کو راہبر کمیٹی کا اجلاس ہو اور اسی شام کو پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی کا اجلاس ہو۔وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب اس راہبر کمیٹی کے کنو میز مقرر ہوئے۔اور یہ فیصلہ ہوا کہ ۶ / جولائی کی صبح کو اس راہبر کمیٹی کا اجلاس ہوگا اور شام کو پورے ایوان پر مشتمل سپیشل کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ۱۴ جولائی ۱۹۷۴ء کو ناظر اعلی صدرانجمن احمد یہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کے صدر کو لکھا کہ A delegation of the Ahmadiyya Movement in Islam comprising of the following members may kindly be allowed to present material with regard to our belief in Khatme Nabbuwat -finality of the prophethood of the Holy Prophet Muhammad may peace and blessing of Allah be on Him and to depose as witnesses (1) Maulana Abul Ata (2) Sheikh Muhammad Ahmad Mazhar (3) Mirza Tahir Ahmad (4) Maulvi Dost Muhammad۔یعنی جماعت کی طرف سے چار اراکین نامزد کئے گئے جو کہ اس موقع پر جماعت کے وفد کے اراکین کی حیثیت سے جماعت کا موقف پیش کرنے کے لئے جائیں گے۔یہ چار اراکین مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب ، مکرم شیخ محمد احمد مظہر صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور مکرم مولوی دوست محمد شاہد صاحب تھے۔جولائی ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری کی طرف سے جواب موصول ہوا The special committee has permitted you to file a