سلسلہ احمدیہ — Page 308
308 آسمانوں کے دروازے ہیں۔‘ (۲۸) جماعت احمدیہ کی مخالفت اتنی اندھی ہو چکی تھی کہ ان فسادات کے دوران ایک گیارہ برس کے احمدی بچے کو بھی ہیجبکہ نامی گاؤں سے گرفتار کر لیا گیا۔پولیس اس بچے کو گرفتار کرنے کے لئے آئی تو سپاہی ہتھکڑی لگانے لگے۔بچے کی عمر اتنی چھوٹی تھی کہ ہتھکڑی لگائی گئی تو وہ باز و سے نکل گئی۔اس پر پولیس والے نے صرف بازو سے پکڑ کر گرفتار کرنے پر اکتفا کیا۔البتہ اتنی مہربانی کی کہ اس بچے کو اپنے بھائیوں سمیت جیل میں اس احاطے میں رکھا گیا جہاں پر ربوہ سے گرفتار ہونے والے اسیران کو رکھا گیا تھا۔اس احاطے میں سات کو ٹھریاں تھیں۔اسیران کو شام چار بجے کو ٹھریوں میں بند کر دیا جاتا اور صبح چار بجے وہاں سے نکال دیا جاتا۔ان کا وقت یا تو دعاؤں میں گزرتا یا پھر دل بہلانے کو کوئی کھیل کھیلنے لگ جاتے۔مغرب عشاء کے وقت جب ہر کوٹھری سے اذان دی جاتی تو جیل کی فضاء اذانوں سے گونج اُٹھتی۔جیل میں کھانا اتنا ہی غیر معیاری دیا جاتا جتنا پاکستان کی جیلوں میں دیا جاتا ہے۔صبح کے وقت گڑ اور چنے ملتے اور شام کو بد مزہ دال روٹی ملتی۔گرمی کے دن تھے اور جیل میں پنکھا تک موجود نہیں تھا البتہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے وہاں پر پنکھے لگانے کا انتظام فرما دیا تھا۔اسی افراد کے لئے ایک لیٹرین تھی جس کی دن میں صرف ایک مرتبہ صفائی ہوتی تھی۔اور اگر کوٹھریوں میں جانے کے بعد بارہ گھنٹے کے دوران اگر کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہوتی تو اسے لیٹرین میں جانے کی اجازت بھی نہیں ہوتی تھی اور اس کے لیے نا قابل بیان صورت پیدا ہو جاتی تھی۔جب یہ گیارہ سالہ بچہ اپنے رشتہ داروں سمیت رہا ہوا تو اس کے والد ملک ولی محمد صاحب حضرت خلیفہ اسیح الثالث کیساتھ ملاقات کرنے گئے مگر اس بچے کو اپنے ساتھ نہ لے کر گئے لیکن حضور نے ارشاد فرمایا کہ اس بچے کو بھی ملاقات کے لئے لاؤ۔جب یہ بچہ حضور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو حضور نے گلے لگا کر پیار کیا اور پرائیویٹ سیکریٹری کو ارشاد فرمایا کہ انکی تصویریں بنانے کا انتظام کیا جائے۔یہ بچہ اب تک تاریخ احمدیت کا سب سے کم عمر اسیر ہے۔قارئین کے لئے یہ بات دلچسپی کا موجب ہوگی کہ یہ اسیر مبشر احمد خالد صاحب مربی سلسلہ اس کتاب کے مؤلفین میں سے ایک ہیں۔پاکستان کی قومی اسمبلی پر مشتمل ایک سپیشل کمیٹی قائم ہوتی ہے