سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 297 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 297

297 پیش کی گئیں اور اپوزیشن نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان حالات کا سارا الزام ہم پر لگا دیا ہے اور ہم جواب دینا چاہتے ہیں۔لیکن سپیکر نے اس دن ان پر بحث کی اجازت نہیں دی۔اس پر اپوزیشن کے اراکین نے واک آؤٹ کیا اور نکلتے ہوئے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے۔۵ جون کے اخبارات میں یہ خبریں شائع ہونے لگ گئیں کہ حکومت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور اس بارے میں سرکاری فیصلہ کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔(۱۸) ور جون کو لاہور میں کل پاکستان علماء و مشائخ کونسل منعقد ہوئی اور اس میں مطالبہ پیش کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے اور ربوہ کی زمین ضبط کر لی جائے ورنہ ۱۴ جون سے ملک گیر ہڑتال کر دی جائے گی۔(۱۹) اس کتاب کی تالیف کے دوران جب ہم نے پروفیسر غفور احمد صاحب سے انٹرویو کیا اور یہ دریافت کیا کہ کیا یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ کسی گروہ کے متعلق یہ مطالبہ کیا جائے کہ اس سے تعلق رکھنے والے کلیدی آسامی پر فائز نہیں ہونے چاہئیں۔اس پر پہلے انہوں نے جواب دیا کہ آئین میں تو صرف صدر اور وزیر اعظم کے عہدہ کے لئے پابندی ہے دوسرے تمام عہدوں پر قادیانیوں سمیت کوئی بھی مقرر ہو سکتا ہے۔جب ہم نے انہیں پھر یاد دلایا کہ یہ مطالبہ اس وقت کی اپوزیشن کی طرف سے کیا گیا تھا جس کے وہ خودر کن تھے تو اس پر انہوں نے فرمایا۔ہوگا۔میں نے آپ کو بتایا ناں کہ اس ساری چیز کو اس کے بیک گراؤنڈ میں دیکھیں۔قادیانیوں کو بھی اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ وہ اس ملک کے شہری ہیں تو کیا بات ہے کہ ملک کی ایک بہت بڑی Majority کے جذبات ان کے خلاف ہیں۔کوئی نہ کوئی وجہ تو اس کی ہوگی۔پھر کہنے لگے کہ اسکی وجہ میں نے آپ کو یہ بتائی ہے کہ جب آپ اپنے اثر کو ناجائز استعمال کریں گے تو اس سے دوسرے Hurt ہوں گے۔اور پھر اس کی یہ مثال دی کہ سر ظفر اللہ کی لوگ Respect کرتے تھے کہ انہوں نے پاکستان کو Preach کیا لیکن انہوں نے میرٹ کی بجائے تعلقات پر بہت بھرتیاں کیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیبنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے اور جگہ بھی کر سکتے تھے۔“ پروفیسر غفور احمد صاحب کا یہ بیان بہت دلچسپ ہے۔اول تو یہی بات محل نظر ہے کہ ملک کی