سلسلہ احمدیہ — Page 293
293 ۲ جون کو گوجرانوالہ میں مکرم بشیر احمد صاحب اور منیر احمد صاحب، غلام قادر صاحب اور چوہدری عنایت اللہ صاحب نے شہادت پائی۔۴ رجون کو مکرم محمد الیاس عارف صاحب نے ٹیکسلا میں اور ۸ / جون کو مکرم نقاب شاہ مہمند صاحب کو پشاور میں شہید کیا گیا۔پھر 9 جون کو ٹوپی میں غلام سرور صاحب اور ان کے بھتیجے اسرار احمد خان صاحب کو شہید کر دیا گیا۔9 جون کو ہی کوئٹہ میں مکرم سید مولود احمد بخاری صاحب کو شہید کیا گیا۔11 جون کو مکرم محمد فخر الدین بھٹی صاحب کو ایبٹ آباد میں اور اسی تاریخ کو مکرم محمد زمان خان صاحب مکرم مبارک احمد خان صاحب کو بالا کوٹ میں شہید ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ایبٹ آباد میں مکرم محمد فخر الدین صاحب کو جس انداز میں شہید کیا گیا وہ اتنا بہیمانہ تھا کہ جس کے پڑھنے سے مشرکین مکہ کے کیے گئے مظالم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ان کو شہید کرنے کے بعد بھی ہجوم ان کی لاش پر گولیاں برساتا رہا یعش کے ناک کان کاٹ کر مثلہ کیا گیا۔اور خنجروں سے وار کر کے نعش کی بے حرمتی کی گئی۔بھٹی صاحب کے گھر کا سارا سامان نکال کر اسے نذر آتش کیا گیا اور اس الاؤ میں ان کی لاش کو پھینک دیا گیا۔شر پسند جلتی ہوئی آگ میں بھی نعش پرسنگ باری کرتے رہے۔ختم نبوت اور ناموس رسالت کے نام پر تحریک چلانے والوں کی اخلاقی حالت کا یہ عالم تھا۔ان فسادات کے آغاز میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کا مختصر ذکر کرنے کے بعد ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ان دنوں میں ملک کی قومی اسمبلی میں اس مسئلہ پر کیا بحث کی جارہی تھی۔۳ جون ۱۹۷۴ء کو ایک بار پھر سٹیشن کے واقعہ پر قومی اسمبلی میں بحث شروع ہوگئی۔وقفہ سے کچھ دیر پہلے جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد صاحب نے کہا کہ باوجود اس کے کہ اس واقعہ کا تعلق صوبائی حکومت سے ہے لیکن یہ ایک قومی اہمیت کا مسئلہ ہے اس لئے اس پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہئے اور یہ بھی کہا کہ اس واقعہ کا تعلق مذہب سے ہے۔اس کے بعد جمعیت العلماءاسلام کے مفتی محمود صاحب کچھ نکات بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ربوہ میں جو واقعہ ہوا ہے وہ ایک جارحانہ کاروائی ہے جو مرزائی فرقہ کے لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف کی ہے اور یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا یہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔اور دعویٰ کیا کہ ہم ایوان کے سامنے ثابت کریں گے کہ یہ ایک منصوبہ تھا اور ایک پروگرام تھا اور اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔