سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 292 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 292

292 دیں تو احمدیوں کی جان بچ جائے گی۔گویا ان کی حکومت میں اپنی املاک کا جائز دفاع کرنا بھی ایک نا قابل معافی جرم تھا۔اور حکومت کا کام صرف مظلوموں پر اعتراض کرنا تھا۔اور ۱۹۷۴ء کے فسادات میں کتنے ہی احمدی اس حالت میں شہید کر دیئے گئے کہ ان کے پاس اپنے دفاع کے لیے ایک چھڑی بھی نہیں تھی۔ان نہایت قابل وزیر صاحب نے اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا کہ ان کی شہادت کس وجہ سے ہوئی۔پندرہ جون تک پاکستان کے ۱۲۰ شہروں اور قصبوں میں فسادات کا آغاز ہو چکا تھا۔ان میں اکثر مقامات صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتے تھے لیکن پاکستان کے باقی صوبوں اور شمالی علاقہ جات کے کچھ مقامات میں فسادات کی آگ بھڑکنی شروع ہو چکی تھی۔احمدیوں کو دھمکیاں دے کر ارتداد پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ان کو مارا پیٹا جا رہا تھا۔ان کے گھروں پر حملے ہو رہے تھے، پتھراؤ کیا جا رہا تھا ، سامان لوٹا جا رہا تھا اور ان سترہ دنوں میں کئی مقامات پر احمدیوں کے ۲۷۰ مکانات کو نذر آتش کیا گیا یا انہیں لوٹا گیا۔احمدیوں کی دوکانیں اور فیکٹریاں بھی خاص طور پر شورش کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔پندرہ جون تک احمدیوں کی ۳۴۰ دوکانوں کولوٹ ماریا آتشزدگی کا نشانہ بنایا گیا اور چھ فیکٹریوں کو تاخت و تاراج کیا گیا۔دیگر کاروباری مراکز کا نقصان اس کے علاوہ تھا۔فسادات کے ابتدائی سترہ دنوں میں احمدیوں کی ۲۵ مساجد کو شہید کیا گیا اور تین پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آشیر باد سے قبضہ کر لیا گیا۔۲۰ مقامات پر جماعت کی قائم کردہ چھوٹی چھوٹی لائبریریوں کو آگ لگا دی گئی اور قرآن کریم کے کئی نسخے شہید کر دیئے گئے۔کئی جگہوں پر پولیس نے فسادات پر قابو پانے کی بجائے ان احمدیوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا جو اپنے مکانات کی حفاظت کر رہے تھے۔پندرہ جون تک ربوہ کے اسیران سمیت ۱۰۸ احمدیوں کو گر فتار کیا جا چکا تھا۔بہت سے شہروں میں مولوی لوگوں کو اکسا رہے تھے کہ وہ احمدیوں کا بائیکاٹ کریں اور ان کو ضروریات زندگی بھی نہ فروخت کریں۔ربوہ کے اردگرد کے دیہات کو بھی بھڑکا یا جارہا تھا کہ وہ ربوہ تک ضروریات زندگی نہ پہنچا ئیں۔اب تک ۲۱ احمدی جامِ شہادت نوش کر چکے تھے اور 9 کے متعلق یہ علم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں یا انہیں بھی شہید کیا جا چکا ہے۔دس شہداء کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اور ساہیوال، ٹوپی اور بالا کوٹ ، کوئٹہ، حافظ آباد، ٹیکسلا، پشاور اور ایبٹ آباد کے احمدی بھی شہادت کے مقام پر سرفراز ہو چکے تھے۔( تفصیلات کے لئے دیکھئے شہدائے احمدیت ناشر طاہر فاؤنڈیشن ربوہ )