سلسلہ احمدیہ — Page 277
277 وہ گروہ چھوٹا سا گروہ ہی کیوں نہ ہو اس ہدایت پر عمل پیرا ہونے پر کوتا ہی کا مظاہرہ کرے تو اس کے سنگین نتائج نکلتے ہیں۔حضور اقدس نے ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء کے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ ہمارا کام غصہ کرنا نہیں بلکہ غصہ کو ضبط کرنا ہے۔اور اس خطبہ میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے جو فکر رہتی ہے وہ یہ ہے کہ احباب جماعت میں نئے آئے ہوئے بھی ہیں۔ان کو کہیں اپنے مخالف کے خلاف غصہ نہ آجائے۔جہاں ہمیں کوئی تکلیف دے رہا ہو وہاں ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ ہم اس کی کوئی تکلیف کیسے دور کر سکتے ہیں۔(۲) اس خطبہ جمعہ سے چند روز قبل ۲۲ مئی ۱۹۷۴ء کونشتر میڈیکل کالج کا ایک گروپ چناب ایکسپریس پر ٹرپ پر جاتے ہوئے ربوہ سے گزرا۔اور ان طلباء نے ربوہ کے پلیٹ فارم پر مرزائیت ٹھاہ کے نعرے لگائے اور پٹڑی سے پتھر اٹھا کر پلیٹ فارم پر موجود لوگوں پر اور قریب والی بال کھیلنے والے لڑکوں پر چلائے (۳)۔اس طرح اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت کسی تصادم کی نوبت نہیں آئی۔جب بعد میں اس واقعہ پر ٹریبونل قائم کیا گیا تو یہ شواہد سامنے آئے کہ مئی ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء نے سیر کے لئے راولپنڈی، مری اور سوات جانے کا پروگرام بنایا۔پہلے یہی پروگرام تھا کہ کالج کی طالبات اور کچھ اساتذہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اس سیر میں شامل ہوں گے۔اور پروگرام یہ تھا کہ یہ طلباء ریل گاڑی خیبر میل کے ذریعہ جائیں گے۔یہ امر مد نظر رہے کہ گاڑی خیبر میل ربوہ سے نہیں گزرتی تھی۔لیکن ریلوے حکام نے ان کی بوگی خیبر میل کے ساتھ لگانے کی بجاۓ چناب ایکسپریس کے ساتھ لگانے کا فیصلہ کیا جو کہ ربوہ سے ہوکر گزرتی تھی۔درخواست یہ کی گئی تھی کہ ان طلباء کو دو بوگیاں مہیا کی جائیں اور پہلے پروگرام یہ تھا کہ یہ گروپ سیر کے لئے ۱۸ مئی ۱۹۷۴ء کو سیر کے لئے روانہ ہو گا۔لیکن جب ۱۸ مئی کو نشر میڈیکل کالج کے طلباء اور طالبات اور ان کے کچھ اساتذہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ۱۸ مئی کو ملتان کے ریلوے سٹیشن پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کے لئے دو نہیں بلکہ ایک بوگی مخصوص کی گئی ہے۔اور یہ بوگی اتنے بڑے گروپ کے لئے ناکافی تھی۔حالانکہ ریزرویشن کے بارے میں یہ معلومات تو بہت پہلے مل جاتی ہیں لیکن ہوا یہ کہ اس گروپ کو یہ پتہ سٹیشن پہنچ کر چلا کہ ان کے لئے دو نہیں بلکہ ایک بوگی مخصوص کی گئی ہے۔چنانچہ اس پروگرام کو کچھ دن