سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 259 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 259

259 شرط میں درج تھا کہ سعودی فرمانروا اپنا جانشین نامزد کریں گے لیکن کسی ایسے شخص کو جانشین نامزد نہیں کیا جائے گا جو کسی طرح بھی برطانوی سلطنت کی مخالفت کرتا ہو۔اور معاہدے میں یہ درج تھا کہ اگر سعودی ریاست پر کسی نے حملہ کیا تو برطانیہ جس حد تک اور جس طرح مناسب سمجھے گا ان کی مدد کرے گا۔ابن سعود کا خاندان کسی اور قوم یا طاقت کے ساتھ کوئی خط و کتابت یا معاہدہ نہیں کرے گا۔اور اگر کوئی اور حکومت ان سے رابطہ کرے گی تو اس کی اطلاع فوری طور پر برطانیہ کو دی جائے گی۔اور سعودی خاندان اپنے علاقے میں کسی اور ملک کو مراعات نہیں دے گا۔اس معاہدے کا فائدہ یہ ہوا کہ ابن سعود کے خاندان کو سلطنت برطانیہ سے پانچ ہزار پاؤنڈ کی مدد اور ہتھیار ملنے لگے اور پھر برطانوی سلطنت کی خواہش کے مطابق سعودی خاندان نے اپنے ہمسائے میں ابن رشید کی حکومت سے جنگ شروع کی اور انہیں شکست دی۔جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں اس وقت حجاز پر جس میں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ بھی ہیں، شریف مکہ کی حکومت تھی۔ابن سعود سمجھتے تھے کہ وہ اس علاقہ پر قبضہ کر سکتے ہیں لیکن شریف مکہ کو برطانوی حکومت کی حمایت حاصل تھی اور وہ برطانوی حکومت سے کثیر مالی مدد بھی پاتے تھے۔ابن سعود نے برطانوی حکام کے سامنے اس بات کا اظہار بھی کیا تھا۔لیکن ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے شریف مکہ اور برطانیہ کے تعلقات پر برا اثر ڈالا۔شریف مکہ فلسطین میں یہودیوں کی بڑھتی ہوئی آمد کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور وہ مستقبل میں بالفور اعلانیہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کو دیکھ رہے تھے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد ۱۹۲۱ء میں مشہور برطانوی ایجنٹ لارنس ایک معاہدے کا مسودہ لے کر شریف مکہ کے پاس آئے۔اس میں شریف مکہ کے لیے بہت سی مالی اور فوجی مدد کا عہد تھا اور انہیں اس مدد کی اشد ضرورت بھی تھی لیکن ایک شرط یہ بھی تھی کہ شریف مکہ فلسطین میں برطانوی مینڈیٹ کو تسلیم کر لیں۔اس کا نتیجہ یہ نظر آ رہا تھا کہ فلسطین میں یہودیوں کا عمل دخل بڑھتا جائے گا۔شریف مکہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ برطانیہ فلسطین کے بارے میں اپنے وہ وعدے پورے کرے جو اس نے پہلی جنگ عظیم کے دوران کیے تھے۔لارنس نے انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ فلسطین کے مسئلہ سے ان کا تعلق نہیں۔لیکن انہوں نے اس بات کو گوارہ نہ کیا کہ اس طرز پر فلسطین کے مفادات کا سودا کیا جائے۔ان کے اس اصرار نے انگریز حکومت کو ان کے خلاف کر دیا۔اب عبد