سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 254 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 254

254 اس کے بعد مبشر حسن صاحب نے کہا کہ انہوں نے اگست ۱۹۷۴ء میں وزیر اعظم بھٹو صاحب کو خط لکھا تھا جس میں ملک میں موجود مختلف حالات کا ذکر کر کے کہا تھا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ مارشل لاء کی صورت میں نکلے گا۔بھٹو صاحب نے اس خط کا جواب نہیں دیا لیکن اس پر انہوں نے لکھا کہ جو کچھ مبشر نے کہا وہ سچ ہے اور پھر تین آدمیوں کو اس خط کی نقول بھجوا دیں۔ایک اور بات کا ذکر کرنا ہوگا کہ بنگلہ دیش کے علاوہ چھ نئے ممالک پہلی مرتبہ اس کا نفرنس میں شامل تھے اور ان سب ممالک کا تعلق افریقہ سے تھا۔اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان چھ میں سے تین ممالک یوگینڈا، گیمبیا اور گنی بساؤ تھے۔بعد میں ان تین ممالک میں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں حکومتوں نے انتہائی اقدامات اُٹھائے۔اس کا نفرنس میں ایک ہی غیر سرکاری تنظیم کا وفد شامل تھا اور یہ تنظیم رابطہ عالم اسلامی تھی۔اور اس کے سیکریٹری جنرل قزاز صاحب اس کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔صرف ڈیڑھ ماہ کے بعد اس تنظیم نے ایک کا نفرنس مکہ مکرمہ میں منعقد کی اور اس میں یہ قرار داد منظور کی گئی کہ مسلمان ملکوں میں جماعتِ احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے دینا چاہئے۔اور ان پر پابندیاں لگادینی چاہئیں۔اور جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں جب آزاد کشمیر اسمبلی نے جماعت احمدیہ کے خلاف قرار داد منظور کی تو قزاز صاحب نے بھٹو صاحب کو مبارکباد کا پیغام بھجوایا تھا اور لکھا تھا کہ یہ قرارداد اسلامی ممالک کے لئے قابل تقلید ہے۔اس کانفرنس پر کانفرنس کے سیکریٹری جنرل کے فرائض محمد حسن التہامی صاحب نے سنبھالے تھے۔ان سے قبل یہ فرائض ملیشیا کے تنکو عبدالرحمن سرانجام دے رہے تھے۔اور جب ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے جماعت احمدیہ کے خلاف قرار داد منظور کی تو اس سے چند روز قبل یہ صاحب پاکستان پہنچ گئے تھے اور اس قرارداد کے بعد فوراً ہی انہوں نے اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ بیان دیا تھا کہ اب باقی اسلامی ممالک کو بھی اس قرار داد کی پیروی کرنی چاہیئے۔رابطہ عالم اسلامی میں تیار ہونے والی سازش ۱۹۶۱ ء میں حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی او اس کا مرکزی دفتر بھی مکہ مکرمہ میں بنایا گیا۔اس کے مقاصد یہ مقرر کئے گئے تھے۔اسلام کا پیغام دنیا