سلسلہ احمدیہ — Page 249
249 موقعہ پر مسلم سر برا ہوں خصوصاً شاہ فیصل، معمر القذافی اور عیدی امین سے ملاقات کر کے قادیانیوں کے بارے میں یادداشت پیش کریں۔اور انہیں بتائیں کہ قادیانیت اسلام اور مسلمانوں کے لئے صیہونیت سے کم خطر ناک نہیں ہے۔اور اس کے سد باب کے لئے تمام اسلامی ملکوں کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔“ غانا سے موصول ہونے والی اس تحریر کے نیچے چٹان کے مدیر نے لکھا: ” اسلامی کانفرنس کے بعد خط ملا لیکن شاہ فیصل کو عالم اسلام کا لیڈر بنانے کی تحریک سے چٹان متفق ہے بلکہ بہت پہلے سے اس کا داعی ہے۔“ ( چٹان ۴ مارچ ۱۹۷۴ء ص ۱۴ و ۱۵ ) نہ صرف یہ بلکہ ایسے اشتہارات جرائد میں شائع کروائے جا رہے تھے جن میں شاہ فیصل کو قائد ملت اسلامیہ کا خطاب دیا گیا تھا۔( چٹان ۲۵ فروری ۱۹۷۴ء) یہ پرا پیگنڈا کچھ اس انداز سے کیا جارہا تھا کہ خلفاء راشدین کی عظمت کا بھی کچھ دھیان نہیں کیا جارہا تھا۔اسی جریدے نے شاہ فیصل اور دیگر سربراہان مملکت کی لاہور آمد کی منظر کشی پر جو رپورٹ شائع کی اس میں کچھ اس طرز میں زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے کہ اس رپورٹ کی ایک سرخی یہ تھی ابو بکر، عمر، عثمان اور علی اسی طرح سیکیورٹی کا انتظام کر لیتے تو آج تاریخ یقیناً مختلف 66 ہوتی۔“ اور اس کے ساتھ شاہ فیصل کی تصویر شائع کی ہوئی تھی اور نیچے یہ سرخی تھی۔شاہ فیصل کے آتے ہی ساری فضا احترام کے سانچے میں ڈھل گئی گویا یہ کہا جا رہا تھا کہ جس عمدہ طریق پر بھٹو صاحب اور ان کی ٹیم نے سیکیورٹی کا انتظام کیا ہے نعوذ باللہ ایسے عمدہ طریق پر انتظامات کرنے کی توفیق تو خلفاء راشدین کو بھی نہیں ہوئی تھی۔لیکن جس طرح چند سال بعد بھٹو صاحب کا تختہ الٹا گیا اس سے اس کی حقیقت خوب ظاہر ہو جاتی ہے۔اور اسی رپورٹ میں چٹان نے لکھا کہ جب شاہ فیصل ایئر پورٹ پر اترے تو ان کی آمد نے ایئر پورٹ کی فضا کو ایک عجیب تقدس دے دیا تھا۔اور ان کی چال میں ایک وقار اور تمکنت تھی اور چہرے پر نور کا ایک ہالہ بھی تھا۔چٹان ۱۱ مارچ ۱۹۷۴ ء ص ۱۵ و ۱۶) اس مدح سرائی کا مقصد کیا تھا اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ