سلسلہ احمدیہ — Page 222
222 یہ امر قابل ذکر ہے کہ ۱۹۸۹ء میں تو جماعت کے قیام کو سو سال مکمل ہو رہے تھے اور اس طرح ۱۹۹۰ء کا سال جماعت کی دوسری صدی کا پہلا سال تھا اور ہم بعد میں جائزہ لیں گے کہ کس طرح یہ صرف جماعت کی نئی صدی کا آغاز ہی نہیں تھا بلکہ جماعت کی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی تھی۔اور حضور نے جو دوسری جہت کا ذکر فرمایا تو اس کے مطابق ۱۹۴۵ء میں اس نئے دور کے آغاز میں ابھی آٹھ سال باقی تھے اور گویا اس حساب سے ۱۹۵۳ء بھی جماعت کی تاریخ کا ایک اہم سال تھا۔جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ۱۹۵۳ء میں جماعت کے مخالفین نے جماعت کے خلاف ایک منظم شورش بر پا کی مگر یہ سازش ناکام ہو گئی۔لیکن اس کے ساتھ جماعت کی مخالفت ایک نئے دور میں داخل ہوئی اور اسی طرح جماعت کی ترقی کی تاریخ بھی ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔اور ایک تیسری جہت حضرت مصلح موعودؓ نے یہ بیان فرمائی تھی کہ ۱۹۴۵ ء کے ۳۷ سال کے بعد جماعت کی تاریخ کا ایک اور اہم سنگ میل آئے گا۔یہ ۳۷ سال ۱۹۸۲ء میں پورے ہوتے تھے۔اور ۱۹۸۲ء میں خلافتِ رابعہ کا آغاز ہوا اور جماعت احمد یہ ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔اب ہم ۱۹۷۳ء کے سال کا ذکر کر رہے ہیں۔ہم جائزہ لے چکے ہیں کہ کس طرح اس امر کے آثار نظر آ رہے تھے کہ جماعت کے خلاف ایک سازش تیار کی جارہی ہے، حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے پوری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کو تیز تر کرنے کے لیے ایک عظیم الشان منصوبہ پیش فرمایا۔حضور نے اس کا اعلان ۱۹۷۳ء کے جلسہ سالانہ کے اختتامی خطاب میں فرمایا: حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۹۷۳ء کے جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: حضرت مصلح موعودؓ کی یہ خواہش تھی کہ جماعت صد سالہ جشن منائے ، یعنی وہ لوگ جن کو سوواں سال دیکھنا نصیب ہو وہ صد سالہ جشن منائیں اور میں بھی اپنی اسی خواہش کا اظہار کرتا ہوں کہ صد سالہ جشن منایا جائے۔اس کے لئے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے۔اور میں نے بڑی دعاؤں کے بعد اور بڑے غور کے بعد تاریخ احمدیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اگلے چند سال جو صدی پورا ہونے سے قبل باقی رہ گئے ہیں وہ ہمارے لئے بڑی ہی اہمیت کے مالک ہیں۔اس عرصہ میں ہماری طرف سے اس قدر کوشش اور اللہ کے حضور اس قدر دعائیں ہونی چاہئیں کہ اس کی رحمتیں ہماری تدابیر کو کامیاب کرنے والی بن