سلسلہ احمدیہ — Page 219
219 حضور نے لندن میں احباب جماعت سے ملاقات فرمائی اور ۱۶ / جولائی کو لیک ڈسٹرکٹ کے لئے روانہ ہو گئے اور ۳۰ جولائی تک وہاں قیام فرمایا۔قریب کی جماعتوں نے حضور سے شرف ملاقات حاصل کیا۔یہاں پر قیام کے دوران حضور نے یارک پوسٹ اینڈ آرگس کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ میری زندگی کا مشن یہ ہے کہ قرآن کریم کو جس میں تمام علوم کے خزانے بھرے ہوئے ہیں دنیا بھر میں ہر فرد بشر کے ہاتھوں میں پہنچا دوں۔حیرت کی بات ہے کہ وہ مسیح جس کی تعلیم ایک محدود اور مخصوص قوم کے لئے نازل ہوئی تھی، اس کے ماننے والوں نے تو اس کی کتاب کو کروڑوں کی تعداد میں چھپوا کر ہوٹلوں کے کمرے کمرے میں اسے رکھوا دیا۔لیکن کتنے درد کی بات ہے کہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد عربی ﷺ پر نازل ہونے والے علم و معرفت کے خزانے یعنی قرآن کریم کو مسلمانوں نے دوسروں تک پہنچانا تو در کنار ، اپنوں کے ستر فیصد گھرانے بھی اس نعمت سے محروم رہے۔ان میں سے جن لوگوں کے پاس یہ خزانہ پہنچا۔اکثر نے اسے تعویذ کے طور پر رکھ لیا یا طاق کی زینت بنا دیا۔پس میری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ قرآنِ کریم کو کروڑوں کی تعداد میں شائع کر کے نہ صرف ہر مسلمان بلکہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں تک بھی پہنچا دوں (۴)۔۳۰ جولائی کو حضور واپس لندن تشریف لے آئے۔حضور نے یہاں پر قرآن مجید کی طباعت و اشاعت اور جلد سازی کے متعلق بعض ماہرین سے مشورہ فرمایا۔(۵) ۱۴ اگست کو حضور آکسفورڈ تشریف لے گئے۔حضور آکسفورڈ کے Balliol کالج میں زیر تعلیم رہے تھے اور اس وقت حضور کے بڑے صاحبزادے مکرم مرزا انس احمد صاحب آکسفورڈ میں زیر تعلیم تھے۔حضور نے یہاں پر Fox on Bix نام کے ایک پرانے چائے خانے میں چائے نوش فرمائی۔یہ چائے خانہ ۱۷۶۴ء سے قائم ہے۔حضور Balliol کالج بھی تشریف لے گئے۔لندن میں قیام کے دوران مکرم طاہر نفیس صاحب نے حضور کی خدمت میں قرآن کریم کی وسیع پیمانے پر اشاعت کے منصوبے کے متعلق ایک رپورٹ پیش کی جسے حضور نے پسند فرمایا۔اور حضور نے اس معاملے پر دیگر احباب سے بھی مشورہ فرمایا۔ایک اور دوست نے حضور کی خدمت میں قرآن کریم کی جلد سازی کے متعلق رپورٹ پیش کی (۷۶)۔حضور نے اس دورہ کے دوران یہ اظہار فرمایا کہ مجھے لٹریچر کی طباعت کی فکر نہ تھی۔اس کی تقسیم اور اشاعت کی فکر تھی۔نشر واشاعت والوں نے بعض کتب