سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 192 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 192

192 پاکستان میں تعلیمی ادارے قومیائے جاتے ہیں ۱۹۷۲ء میں پاکستان کی حکومت نے ملک کے تمام تعلیمی ادارے اپنی تحویل میں لینے کا اعلان کر دیا۔اس کے ساتھ جماعت احمدیہ کے تعلیمی ادارے میں حکومتی تحویل میں لے لئے گئے۔تعلیم الاسلام کالج جیسے ادارے جنہیں محنت اور مسلسل قربانیوں کی روایات کے ساتھ چلایا گیا تھا ، جماعتی انتظام سے نکل کر حکومتی انتظام کے ماتحت چلے گئے۔لیکن اس کے بعد یہی ہوا کہ ان تعلیمی اداروں کا معیار نیچے گرتا چلا گیا۔جن تعلیمی اداروں میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کی اعلی مثالیں قائم ہوتی تھیں، اب و ہاں نہ کو ئی تعلیمی معیار رہا اور نہ ہی کھیلوں جیسی سرگرمیوں کا کوئی معیار برقرار رہ سکا۔جماعت احمدیہ کے خلاف سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے آئین میں ختم نبوت کا حلف نامہ ۱۹۷۱ ء کی جنگ کے نتیجہ میں پاکستان دولخت ہو گیا۔صدر یحیی خان نے استعفیٰ دے دیا اور بھٹو صاحب نے ملک کے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر کی حیثیت سے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا۔اب ملک کے آئین کی تشکیل کا مسئلہ در پیش تھا۔مستقل آئین کی تشکیل میں تو کچھ وقت لگنا تھا ، اس دوران ملکی انتظامات چلانے کے لیے قومی اسمبلی نے ایک عبوری آئین کی منظوری دی اور مستقل آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک ۲۵ رکنی کمیٹی بنائی گئی ، اس کمیٹی کے سربراہ وزیر قانون محمودعلی قصوری صاحب تھے۔لیکن کچھ عرصہ بعد محمود علی قصوری صاحب نے اختلافات کی وجہ سے وزارت اور اس کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب نے اس کمیٹی کی صدارت سنبھال لی۔کمیٹی میں اپوزیشن کے کئی ایسے اراکین شامل تھے جو جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش رہے تھے۔جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد صاحب، جمعیت العلماء اسلام کے قائد مفتی محمود صاحب،