سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 187 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 187

187 گھوڑ سوار شرکت کرتے اور حضور خود تشریف لا کر ان کی حوصلہ افزائی فرماتے۔قصر خلافت کے احاطے میں حضور نے گھوڑے پالے تھے جن کا خرچ حضور خود ادا فرماتے تھے۔شام کے وقت حضور یہاں پر تشریف لاتے اور جب تک گھوڑے سے گرنے کا واقعہ نہیں ہوا حضور خود بھی سواری فرماتے اور بہت پیار سے گھوڑوں کا جائزہ لیتے اور انہیں پیار کرتے۔دوسرے احباب بھی وہاں پر سواری کرتے۔بہت سے بچے بھی اس وقت وہاں پر موجود ہوتے اور یہ نو آموز سوار بھی وہاں پر سواری کا شوق پورا کرتے۔حضور اس بات کا بہت خیال فرماتے تھے کہ گھوڑ سواری اس فن کے اصولوں کے مطابق کی جائے۔مجھے یاد ہے کہ ایک بار جبکہ میری عمر دس سال کے قریب ہوگی کہ گھوڑے پر چڑھتے ہوئے میں گھوڑے کے پیچھے سے گزر کر سوار ہونے کے لئے گیا۔جبکہ اصول یہ ہے کہ ہمیشہ گھوڑے کے سامنے سے گزرنا چاہئے۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ واپس آؤ اور گھوڑے کے سامنے سے ہو کر جاؤ۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو عرب گھوڑوں سے بہت پیار تھا۔آپ اس نسل کی خوبصورتی کو بہت پسند فرماتے تھے۔حضور نے ۱۹۷۵ ء کے گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: گھوڑوں کے سلسلہ میں قرآن کریم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں ایک بنیادی حقیقت یہ بتائی ہے کہ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي کہ میں ( سلیمان ) الخیر سے اس لئے محبت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ یہ اچھی مخلوق یہ خیر مجھے اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتی ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا کہ ہم گھوڑے سے اس لئے پیار کرتے ہیں کہ قرآنِ عظیم نے ان سے پیار کرنے کی تلقین کی ہے۔اور پہلے انبیاء کا نمونہ بھی ہمارے سامنے ہے اور خود حضرت نبی اکرم کا نمونہ بھی ہمارے سامنے ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ نے دیکھا کہ آنحضرت اپنے گھوڑے کے جسم کو چادر سے صاف کر رہے تھے اور اس سے بڑا پیار کر رہے تھے۔صحابہ وہ لوگ تھے جو آنحضرت ﷺ پر جان دینے والے تھے۔اس موقع پر وہ آگے بڑھے پر اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم یہ کام کرتے ہیں آپ کیوں تکلیف فرما رہے ہیں۔آپ نے