سلسلہ احمدیہ — Page 186
186 اس کے جسمانی اور ذہنی قومی پر پڑتا ہے اور ایک وہ بوجھ ہے جو بالواسطہ اس کے جسمانی اور ذہنی قومی پر پڑتا ہے۔اس کے لئے جو تربیت جماعت اپنے ان پیارے بچوں کو دینا چاہتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے جسمانی قومی اپنی نشو و نما کے کمال کو اس رنگ میں پہنچائیں کہ دوسری ذمہ داریاں نبھانے کے بوجھ کو برداشت کر سکیں۔ان میں سے ایک طریق جو ماضی قریب میں جاری کیا گیا ہے وہ سائیکل کا استعمال ہے۔میں نے جب ابتداء یہ تحریک کی تو مختصراً یہ اشارہ کیا تھا کہ اپنی صحتوں کو برقرار رکھنے کے لئے سائیکل کی طرف متوجہ ہوں۔کیونکہ آج کی سائنس اور علمی تحقیق نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ سائیکل چلانے سے عام صحت بھی اچھی ہوتی ہے اور انسانی جسم کو دل کی بیماریوں سے کافی حد تک حفاظت مل جاتی ہے۔اس وقت بعض عمر رسیدہ سائنسدان یا ڈاکٹر جن کو دل کی تکلیف تھی۔خود سائیکل چلاتے ہیں تا کہ دوائی کے علاوہ سائیکل کا چلانا ان کے دل کی بیماریوں کو دور کرنے کا باعث بنے۔سائیکل چلانے میں صرف یہی فائدہ نہیں اور بھی ہزاروں فوائد ہیں۔مثلاً آپ میں سے بہتوں کو اپنے گھر کے کام کاج کے لئے یا خریداری کے لئے بازار جانا پڑتا ہے۔اگر آپ کے پاس سائیکل ہو تو آپ اپنا بہت سا قیمتی وقت بچا سکیں گے۔اور وہ بشارت آپ کے وجود میں بھی پوری ہوگی جو مہدی معہود کو ان الفاظ میں دی گئی تھی کہ تو ایک شیخ ( بزرگ ) مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا“۔پس ہمیں خاص طور پر اپنے اوقات کو معمور رکھنے کی طرف توجہ دینی چاہئے اور دوسرے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے تا کہ وہ برکات ہمارے وجود میں بھی پوری ہوں۔(۴) موطا امام مالک میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی سے قیامت تک کے لئے خیر وابستہ ہے۔اور اسی باب میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ہی ایک اور حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے خود مدینہ میں گھوڑوں کی دوڑ کا اہتمام فرمایا اور اس میں تربیت یافتہ اور دوسرے گھوڑوں کے علیحدہ علیحدہ مقابلے ہوئے۔(۵) حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے احباب جماعت کو گھوڑے پالنے اور گھوڑ سواری میں دلچسپی لینے کی تلقین فرمائی۔حضور نے ربوہ میں گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ کا آغاز فرمایا جس میں مختلف اضلاع سے احمدی الله