سلسلہ احمدیہ — Page 183
183 طلباء میں سے لئے جائیں گے۔دو خدام الاحمدیہ کے اور دو انصار اللہ کے نمائندے بھی اس میں شامل ہوں گے۔ان کے علاوہ ایک اس کمیٹی کا صدر بھی ہوگا۔ربوہ کے تمام باشندوں کے لئے کھیلوں اور ورزش جسمانی کا انتظام کرنا اور اس کے لئے گراؤنڈز مہیا کرنا بھی اسی کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی۔اسے ہر ماہ کسی نہ کسی کھیل کا ٹورنا منٹ ضرور منعقد کرانا چاہیئے تا کہ سب کی دلچسپی قائم رہے۔جب ٹورنامنٹ ہوں گے تو باہر سے مہمان بھی آئیں گے اس لئے میز بانی کے فرائض بھی یہی کمیٹی سرنجام دے گی۔اور یہ نہیں ہو گا کہ بعض لوگ از خود ہمارے علم میں لائے بغیر کھیلوں کا انتظام شروع کر دیں اور پھر یہ توقع بھی رکھیں کہ ہم ان کی مدد کریں۔(۱) اسی خطاب میں حضور نے اخلاق و کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے ملک کو گزشتہ جنگ میں جو ذلت دیکھنا پڑی ہے وہ بھی اخلاق کے بنیادی تقاضوں یعنی امانت و دیانت، وقت کی قدر و قیمت اور محنت کے فقدان کا ہی نتیجہ ہے۔ہمارے ملک میں بد دیانتی اور رشوت عام ہے۔وقت کی قدر و قیمت کا احساس بہت کم ہے۔ہمارے نو جوان گیئیں مارنے میں یعنی فضول اور بے مقصد باتوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں اور محنت سے جی چراتے ہیں۔حالانکہ دیانت اور محنت ہی وہ بنیادی چیزیں ہیں جو قوم کی اصل دولت ہوتی ہیں۔اور انہیں اختیار کئے بغیر ہم کبھی قوی اور امین نہیں بن سکتے۔(۱) ۳ مارچ ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں بھی حضور نے اسی موضوع پر روشنی ڈالی۔حضور نے فرمایا: انبیاء علیہم السلام قوی بھی ہوتے ہیں اور امین بھی اور پھرا نبیاء میں سب سے زیادہ قوی اور سب سے زیادہ امین حضرت محمد رسول اللہ ہے تھے۔اسی لئے ہمیں اسوہ نبوی کی پیروی کی طرف توجہ دلائی گئی اور اس پر عمل پیرا ہونے کی سختی سے تلقین کی گئی ہے۔پس ہر وہ شخص جو خود کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے، اسے قوی بھی ہونا چاہئے اور امین بھی۔قوی کے معنی صرف یہی نہیں ہوتے کہ کوئی آدمی زیادہ بوجھ اُٹھالے۔قوی کے معنی دراصل یہ ہوتے ہیں کہ آدمی ہر اُس ذمہ داری کو حسن و خوبی سے ادا کر سکے جس کے اُٹھانے