سلسلہ احمدیہ — Page 179
179 حدیقۃ المبشرین کا قیام حدیقہ المبشرین کے قیام کے بارے میں حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے ۱۹۷۲ء کے جلسہ سالانہ میں ارشاد فرمایا:۔وو۔۔کچھ اصلاح طلب امور اپنے مبلغین کے متعلق جب میرے علم میں آئے تو میں نے سوچا کہ اس وقت شاہدین کے جو دو گروہ بن گئے ہیں یعنی ایک صدرانجمن کے مربی اور دوسرے تحریک جدید کے مبلغ ، یہ صورت درست نہیں ہے۔جب سارے شاہد ہیں اور سارے الا ماشاء اللہ قربانی دینے والے اور فدائی ہیں تو پھر مربی اور مبلغ کا امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔اس فرق کو دور کرنے کی بہتر صورت یہی تھی کہ یہ سب ایک ہی انتظام کے ماتحت رہیں۔چنانچہ اس کے لئے جو ابتدائی انتظام کیا اس کا نام پول (pool) رکھا گیا۔یہ ایک انگریزی لفظ ہے اور یہ کچھ اچھا نہیں لگتا تھا۔لیکن اور کوئی موزوں لفظ ملتا نہیں تھا۔اسلئے اسے اختیار کر لیا گیا۔پھر اس کا نام حدیقتہ المبشرین رکھا گیا۔یہ نام بڑا اچھا لگتا ہے۔گویا یہ ایک ایسا باغ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شاہدین ( مربیان و مبلغین ) کی صورت میں خوبصورت درخت عطا فرمائے ہیں۔اس مشتر کہ انتظام کا اصول یہ بنایا ہے کہ پہلے قاعدے کے مطابق جامعہ احمدیہ سے فارغ ہونے والے شاہدین کی تقسیم تعداد کے لحاظ سے تو ہو جائے گی کیونکہ انجمن اور تحریک دونوں نے ان کا خرچ برداشت کرنا ہوتا ہے۔مثلاً اگر جامعہ احمدیہ سے الٹ کے شاہد بن کر نکلے ہیں۔تو پانچ انجمن کے حصہ میں اور چھ تحریک کے حصہ میں آئیں گے۔یا کسی سال پانچ تحریک کے حصہ میں آئے ہیں اور چھ انجمن کے حصہ میں آتے ہیں۔تو اسی نسبت سے ان کو گزارہ دینے کے لحاظ سے دونوں کی ذمہ داری ہوگی۔لیکن یہ کہ زید تحریک کا ہے اور بکر انجمن کا ہے یہ نہیں ہوگا۔تحریک کو اسکی ضرورت کے مطابق جو بھی اچھے اور تجربہ کار مبلغ ہوں گے جن کا ہمیں بھی تجربہ ہوگا کہ وہ باہر کام کر سکتے ہیں دے دیئے جائیں گے۔ورنہ یہ ایک لحاظ سے ظلم ہے گو ہم ان پر ایک لحاظ سے غصہ بھی ہوتے