سلسلہ احمدیہ — Page 180
180 ہیں۔لیکن دراصل ظالم تو ہم ہی بنتے ہیں کیونکہ ہمارا ایک بچہ آج جامعہ احمدیہ سے پاس ہوتا ہے تو کل اسے ٹکٹ دے کر کہتے ہیں نائیجیریا میں جا کر تبلیغ کرو۔حالانکہ تبلیغ کرنے کا اسے ابھی کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔صحیح مبلغ کی روح ابھی اس کے اندر پیدا ہی نہیں ہوئی۔قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت اور اس کی صفات کے عرفان کے متعلق جو تعلیم دی ہے اس کو اس نے کما حقہ حاصل ہی نہیں کیا۔اس کے متعلق اس کا علم کتابوں تک محدود ہے۔اس کو دعاؤں کے ذریعہ عملی میدان میں کام کرنے کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی صفات کا عملی مشاہدہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت اور عرفان پختہ نہیں ہوا۔مگر اسے ہم اٹھا کر بیرونی ملکوں میں بھجوا دیتے ہیں۔جہاں وہ ٹھوکر کھاتا ہے۔بعض دفعہ ایسی چھوٹی چھوٹی غلطیاں کر جاتا ہے۔جن سے جماعت کو نقصان پہنچتا ہے۔مثلاً غانا میں ہمارے ایک مبلغ نے یہ غلطی کی کہ گورنمنٹ کا ایک انسپکٹر معائنہ کرنے کے لئے آیا تو اس نے کہ دیا کہ یہ کالا آدمی ہے۔میں اس کے ساتھ بیٹھ کر چائے کس طرح پیوں۔میری اس سے ہتک ہو جائے گی۔تم تو ان کی خدمت کے لئے گئے ہو۔۔۔۔۔۔یہ زیب نہیں دیتا کہ جب ان کو خدمت کا موقع ملے اور وہ افریقہ میں جائیں تو یہ کہہ دیں کہ کالے آدمی کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے میں ہماری بے عزتی ہے۔لیکن اس بیچارے کا کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ ہم اس کی تربیت کئے بغیر ، اسکو مانجھے بغیر ، اسکو پالش کئے بغیر وہاں بھیج دیا۔میں مانتا ہوں یہ ہیرے ہیں لیکن لوگ جب کان سے ہیرا نکالتے ہیں تو اسے کب فروخت کے لئے بھیجتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ پہلے آپ ان کو کاٹتے ہیں ، ان کے مختلف زاویے بناتے ہیں ، پھر پالش کرتے ہیں اور پھر وہ بازاروں میں بکنے کے لئے جاتا ہے۔جو آدمی وقف کرتا ہے وہ ہیرا ہے۔اس میں کوئی کلام نہیں ہے۔لیکن وہ جس وقت کان سے نکلتا ہے یعنی جامعہ احمد یہ پاس کرتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو ہیرے کی طرح کٹ بھی کریں اور پالش بھی کریں پھر ہم ان کو کہیں کہ جاؤ اور دنیا کو بتاؤ کہ خدائے قادر و توانا نے اپنے محبوب محمد کے مہدی معہود کو بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کے لئے یہ ہیرے جواہرات عطا فر مائے ہیں۔