سلسلہ احمدیہ — Page 170
170 گو آج دنیا ہمیں طعنے دے رہی ہے اور ہمیں تضحیک کا نشانہ بنا رہی ہے مگر ہم ان چیزوں کی اس لئے پرواہ نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بشارت دی ہے کہ غلبہ اسلام کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔کالی دیوی کی کالی بدلیاں اگر سامنے آجائیں تو وقتی اور عارضی طور پر روشنی تو دور ہو سکتی ہے لیکن وہ غلبہ اسلام کی راہ میں ہمیشہ کے لئے روک نہیں بن سکتیں۔لوگ کہتے ہیں کہ مسلم بنگال واپس کیسے آئے گا ؟ میں کہتا ہوں تم مسلم بنگال کی بات کر رہے ہو ہم تو غیر مسلم دنیا کو بھی اسلام کی طرف لانے والے ہیں اور یہ وعدہ الہی ایک دن پورا ہوکر رہے گا۔۔۔“ (۲۹) اگر کوئی سانحہ ہو تو مومن صرف افسوس کر کے خاموش نہیں ہو جا تا بلکہ مومنوں کے گروہ کا کام ہے کہ وہ اس سانحے کی وجوہات کا تجزیہ کرے اور یہ دیکھے کہ کن وجوہات کے باعث یہ سانحہ پیش آیا ہے تاکہ آئندہ کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی جاسکے۔۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلس شوری میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۹۷۱ء کی جنگ میں پاکستان کی افواج کی شکست کی وجوہات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا۔یہ ایک بہت گہرا اور خطرناک منصوبہ تھا جسے میرا خیال ہے کہ عام انتخابات سے بھی بہت پہلے تیار کر لیا گیا تھا کیونکہ اس منصوبہ کو کامیاب کرنے کے لئے بھارتی فوج نے جو تیاریاں کیں ان کے بعض حصے ایسے تھے جن کو بروئے کار لانے کے لئے ایک لمبی مدت درکار تھی اور اس کے لئے بڑی تیاری کی ضرورت تھی مثلاً مشرقی پاکستان دریاؤں اور نالوں کی سرزمین ہے وہاں آمد و رفت اور نقل و حمل کے لئے دریاؤں کی نسبت ریل اور سڑک بہت کم استعمال ہوتی ہے۔چنانچہ چند دن کی جنگ میں بھارتی فوج نے غالباً ۱۶۰ پل بنائے۔اگر بھارت ۶۰ اپل بنانے میں کامیاب نہ ہوتا تو آج مشرقی پاکستان کا وہ حال نہ ہوتا جو اے ء کی شکست کے بعد ہوا۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج کی نقل و حرکت بغیر پلوں کے ہو ہی نہیں سکتی تھی اور اتنے بڑے پیمانے پر چند ہفتوں کے اندر سوڈیڑھ سو پلوں کو تیار کر دینا قبل از وقت اور بہت زبر دست تیاری کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔۔۔