سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 164 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 164

164 نوابزادہ نصر اللہ خان اور ابوالاعلیٰ مودودی کا امید وار گوارا نہ تھا۔۔۔(۲۴) اس اقتباس سے یہ بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین ان انتخابی نتائج پر پیچ و تاب کھا رہے تھے۔پیپلز پارٹی کی جیت جماعت احمدیہ کے لیے تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی تھی لیکن انتخابات میں شکست نام نہاد مذہبی پارٹیوں کے لیے سوہان روح بنی ہوئی تھی۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ شورش کا شمیری صاحب کے نزدیک اگر احمدی ان سیاسی لیڈروں کی قانونی مخالفت کریں یا انہیں ووٹ نہ دیں جو جماعت احمدیہ کے خلاف بیان بازی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے اور یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر احمدیوں کو ان کے بنیادی شہری حقوق سے بھی محروم کر دیں گے تو یہ بھی ایک بہت بری بات تھی۔گویا احمدیوں پر یہ فرض تھا کہ اپنے مخالفین کی مدد کرتے تاکہ وہ اقتدار میں آکر ان کو بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیتے۔حضرت خلیفۃ اسح الثالث" کا گھوڑے سے گرنے کا واقعہ آنحضرت ﷺ کی سنت کی اتباع میں حضرت خلیفہ لمسیح الثالث کو گھوڑوں سے بہت محبت تھی اور آپ نے قصر خلافت کے احاطے میں اپنے خرچ پر گھوڑے پال رکھے تھے۔گو آپ نے بعد میں یہ گھوڑے صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے نام کر دیئے لیکن اپنی زندگی میں ان کے تمام اخراجات آپ ہی اُٹھاتے رہے۔اور ان گھوڑوں پر ربوہ کے بہت سے احباب اور بچے سواری کرتے تھے اور آپ کو بھی جب فرصت ملتی تو آپ وہاں تشریف لاتے اور گھوڑ سواری فرماتے۔۲۱ جنوری ۱۹۷۱ء کی صبح کو آپ گھوڑ سواری کے لیے آئے اور ایک گھوڑی پر سواری شروع کی۔کچھ دیر کے بعد گھوڑی بدک کر دوڑ پڑی اور سواری کے راستے سے کچھ فاصلہ پر اینٹوں کا ایک ڈھیر پڑا تھا گھوڑی اس ڈھیر کی طرف دوڑی اور وہاں پر پہنچ کر اچانک رکی۔جب گھوڑا دوڑ تا دوڑتا اچانک رکے تو عموماً سوار کے لیے اپنے آپ کو سمبھالنا مشکل ہوتا ہے۔جب گھوڑی اچانک رکی تو آپ گھوڑے سے گر پڑے گھوڑوں کے سائس اللہ داد صاحب نے حضور کو گرنے سے بچانے کے لیے آپ کی کمر میں ہاتھ ڈالا لیکن حضور اینٹوں کے ڈھیر پر گر پڑے۔اور آپ کی کمر پر چوٹ آئی۔آپ کی کمر اور گردن کے عضلات میں شدید درد شروع ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے رات تک درد میں افاقہ تھا لیکن کروٹ