سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 163 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 163

163 جماعت احمدیہ کے لیے تو اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ ایک سیاسی جماعت نے کامیابی حاصل کی ہے لیکن جماعت کی مخالف مذہبی جماعتوں کا نظریہ تھا کہ مذہبی مقاصد سیاسی تسلط کے بغیر حاصل نہیں کیے جاسکتے۔انتخابات میں خفت اُٹھانے کے بعد چٹان میں شورش کا شمیری کا یہ اداریہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس وقت جماعت اسلامی کا حامی طبقہ کن خیالات میں غلطاں تھا۔اس اداریہ کا عنوان تھا اپنی غلطیوں سے عبرت پکڑو۔اس میں شورش کا شمیری صاحب نے لکھا: اگر واقعہ محض یہ ہوتا کہ انتخاب میں رجعت پسندوں کو شکست ہو گئی ہے اور ان کی جگہ ترقی پسند آ گئے ہیں یا کلاہ کامیابی کاسہ لیسوں کے سر سے اتار کر انقلابیوں کے سر پر رکھ دی گئی ہے تو ہم کھلے دل سے خیر مقدم کرتے لیکن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جولوگ پنجاب اور سندھ سے منتخب ہوئے ہیں۔ان کی واضح اکثریت (۹۰ فیصد ) ان افراد پر مشتمل ہے جو خلتاً انقلاب پسند نہیں اور نہ ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اپنی بڑی بڑی جاگیروں اور اپنے شاندار ماضی کے باعث غرباء کے ہمدرد ہو سکتے اور اس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔۔۔۔دو گروہوں نے پیپلز پارٹی کے الیکشن کو منظم کیا۔اولاً وہ عناصر جنہیں حادثاتی سوشلسٹ کہہ لیجئے اس عنصر نے اپنے صبح شام اس غرض سے وقف کر دیے، ان میں آرگنا ئز روہ لوگ تھے وہ اپنی جیت صرف اس میں سمجھتے تھے کہ سوشلزم کا لفظ رواج پا رہا ہے، اور پرانی قدریں ٹوٹ رہی ہیں۔یہ لوگ بالطبع مذہب سے متنفر ہیں۔ان کے علاوہ جن دو فرقوں نے پیپلز پارٹی کی پشت پناہی کی ان میں ایک فرقہ تو مسلمانوں کا فرقہ ہی نہیں اور وہ مسلمانوں سے انتقام لے رہا ہے وہ ہے قادیانی ! جس تندہی سے قادیانی امت کی عورتوں مردوں اور بچوں نے پیپلز پارٹی کے لیے کام کیا ، اس کی مثال نہیں ملتی۔لاہور میں میاں طفیل محمد اور جاوید اقبال کے خلاف قادیانی ہر چیز داؤ پر لگائے بیٹھے تھے۔پسرور کا وہ حلقہ جہاں سے کوثر نیازی چنا گیا ہے تمام تر مرزائیوں کے ہاتھ میں تھا۔وہ کوثر نیازی کو ووٹ نہیں دے رہے تھے بغض کو ٹ دے رہے تھے۔وہ ہر اس شخص سے انتقام لے رہے تھے جو اسلام کے نام پر کھڑا اور ان کا مذہباً مخالف تھا۔انھیں کسی حال میں بھی کسی جمعیت العلماء ، میاں ممتاز دولتانہ،