سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 162 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 162

162 واضح نظر آ رہی تھیں۔پہلی تو یہ کہ عوامی لیگ مشرقی پاکستان کی تقریباً تمام نشستیں حاصل کر رہی تھی۔مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو اکثر نشستوں پر برتری حاصل ہورہی تھی۔اور نام نہاد مذہبی جماعتوں کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ان کے متعلق تمام اندازے غلط ثابت ہو رہے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی کے قائد مودودی صاحب کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کی پارٹی کو اتنی مکمل شکست سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ابھی نصف نشستوں کے نتائج سامنے آئے تھے کہ مودودی صاحب نے اپنی پارٹی کے کارکنان سے اپیل کی کہ پولنگ کے موقع پر جہاں جہاں بھی بے ایمانیاں یا بے قاعد گیاں ہوئی ہیں وہاں سے شہادتیں حاصل کر کے جلد از جلد جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر بھجوائی جائیں تا کہ حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے (۲۳)۔لیکن جلد ہی ان پر یہ حقیقت منکشف ہوگئی کہ ان کی پارٹی کی شکست کی وجہ کوئی بے قاعدگی یا بے ایمانی نہیں بلکہ لوگوں کی حمایت سے محروم ہونا ہے۔اس لیے جلد ہی تحقیقات کا مطالبہ ترک کر دیا گیا۔پورے ملک میں تین سونشستوں پر انتخابات ہوئے تھے۔ان میں سے ۱۶۰ پر عوامی لیگ نے کامیابی حاصل کی۔ان تمام امیدواروں کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔مشرقی پاکستان کی نشستوں میں سے صرف دو ایسی تھیں جن پر عوامی لیگ کے امیدوار کامیاب نہیں ہوئے۔مغربی پاکستان کی ۱۳۸ نشستوں میں سے ۸۱ پر پاکستان پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان سے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔جماعت اسلامی کو صرف چار نشستوں پر اور جمعیت العلماء اسلام ، جمعیت العلماء پاکستان اور کونسل مسلم لیگ کو سات سات نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ان سیاسی پارٹیوں کے لیے جو مذہبی جماعتیں کہلاتی ہیں اور جماعت احمدیہ کی مخالفت میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں یہ نتائج بہت ہی مایوس کن تھے۔ایک تو یہ کہ ان کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے تمام دعووں کے برعکس یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ یہ پارٹیاں پاکستان کے عوام کی حمایت سے محروم ہیں۔مغربی پاکستان میں بھی جماعت اسلامی کو صرف ۴ فیصد ووٹ مل سکے۔اور سیاسی غلبہ اور اقتدار حاصل کرنے کا ایک اور موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔اور یہ بات ان کے غیظ و غضب میں اضافہ کر رہی تھی کہ احمدی اکثر نشستوں پر جس پارٹی کی حمایت کر رہی تھی اس نے مغربی پاکستان میں اکثر نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔اور چند احمدی بھی صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر منتخب ہوئے تھے۔