سلسلہ احمدیہ — Page 154
154 دیرینہ تعلقات تھے۔احمدیوں نے عرض کی کہ ان کو ووٹ دینے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ ان کو یہ اجازت دی گئی (۵)۔لیکن مجموعی صورت حال یہ تھی کہ باقی جماعتوں کی نسبت پاکستان پیپلز پارٹی پیچھے پڑ کر ا کثر سیٹوں پر احمدیوں کی حمایت حاصل کر رہی تھی۔اور دوسری طرف ۱۹۷۰ ء کے الیکشن میں کسی ایک جماعت کی مدد کرنا جماعت احمدیہ کے لیے اپنی ذات میں ایک بہت نازک مسئلہ تھا۔کیونکہ جماعت احمد یہ ایک مذہبی جماعت ہے اور ایسے معاملات اس کے نزدیک اپنے اصل مقاصد کی نسبت بہت کم اہمیت رکھتے تھے لیکن ملکی حالات کا تقاضا تھا کہ مغربی پاکستان میں کسی ایک پارٹی کو مضبوط شکل میں ابھرنا چاہیے ورنہ ملک کے لیے اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔اور بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ یہ خدشات سو فیصد صحیح تھے لیکن پیپلز پارٹی والوں کو یہ بات بھی محسوس ہورہی تھی کہ احمدی ہر جگہ پر ان کی حمایت کیوں نہیں کر رہے۔چنانچہ ان کے چوٹی کے راہنماؤں میں سے ایک نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ ہماری اتنی مدد کر رہے ہیں تو مکمل مدد کیوں نہیں کرتے۔یعنی تمام حلقہ ہائے انتخاب میں ان کی حمایت کیوں نہیں کرتے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے ۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلس شوریٰ میں فرمایا: وو یہ ان کو احساس تھا کہ ہم کلینہ ان کی مدد نہیں کر رہے کیونکہ الحاق کی صورت نہیں ہے۔دراصل ہم ان سے الحاق کر ہی نہیں سکتے تھے۔ہمیں دنیا کے اقتدار اور مال و دولت کی ذرہ بھر پرواہ نہیں ہے اس لئے جب میں اپنے آپ کو ایک مذہبی جماعت کہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر تم میرے ساتھ محبت اور پیار کا غیر منقطع رشتہ قائم کرو گے تو دین اور دنیا کے سارے انعامات تمہیں دے دوں گا۔ہم اس حقیقت زندگی کو بھول کر اور خدا تعالیٰ کے انعامات کو چھوڑ کر کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے ساتھ دنیوی الحاق کیسے کر سکتے ہیں ہم ان کے زرخرید غلام تو نہیں ، ہم غلام ہیں اور اس کا پورے زور سے اعلان بھی کرتے ہیں لیکن ہم صرف اس عظیم ہستی کے غلام ہیں جو واحد و یگانہ ہے۔دنیا کے ساتھ ہمارے دنیوی تعلقات ہیں، پیار کے تعلقات ہیں، بطور خادم کے بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کے تعلقات ہیں غم خوار اور ہمدرد کی حیثیت میں