سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 128 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 128

128 حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کو مشورہ دیا کہ اگر اس رقم کو براہِ راست نئے ہسپتال اور اسکول بنانے کے لئے استعمال کیا گیا تو یہ رقم تو ختم ہو جائے گی ، پھر اس کے بعد کام کیسے چلایا جائے گا۔اس لئے مناسب یہی ہے کہ اس رقم کو کاروبار پر لگا دیا جائے اور جو آمد ہو وہ ہسپتالوں اور سکولوں پر خرچ کی جائے۔مگر حضور نے جواب دیا کہ میں تو اس ہستی سے کاروبار کروں گا جو بے حساب عطا کرتی ہے۔اور اس رقم کو براہِ راست نئے منصوبوں پر لگانا شروع کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے اس فیصلہ میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ باوجود جماعت کے ہسپتالوں میں غریبوں کی ایک بڑی تعداد کا مفت علاج کیا جاتا تھا اور یہ ہسپتال زیادہ تر غریب علاقوں میں قائم کئے گئے تھے مگر پھر بھی دور دور سے صاحب حیثیت لوگ بھی ان ہسپتالوں کی شہرت سن کر علاج کے لئے آنے لگے اور یہ لوگ آمد کا ذریعہ بن گئے۔یہ آمد ا نہی ممالک کے غربا پر اور انہی ممالک میں قائم کردہ سکولوں پر اور نئے ہسپتالوں کو بنانے اور ان کو وسعت دینے اور نئی طبی سہولیات مہیا کرنے پر اور دیگر کاموں پر خرچ کی جانے لگی۔۱۹۷۰ ء کے وسط میں اس سکیم کا آغاز ہوا تھا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ دسمبر ۱۹۷۲ ء تک نئے منصوبوں اور ریز روفنڈ میں موجود مالی وسائل کی پوزیشن کیا تھی۔اللہ تعالیٰ کے ان احسانوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے ۱۹۷۲ء کے جلسہ سالانہ میں ارشاد فرمایا: ۱۹۷۰ء میں میں نے مغربی افریقہ کا دورہ کیا۔میں گیمبیا میں تھا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ کہا گہا کہ کم از کم ایک لاکھ پونڈ ان ملکوں میں اشاعت اسلام کی مہم کو تیز کرنے کے لیے خرچ کرو۔میں بڑا خوش ہوا۔اور اللہ تعالیٰ کی بڑی حمد کی۔اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو گیا کہ اس نے بڑی مہربانی کی ہے۔۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہماری حقیر قربانیوں کو قبول فرما کر ہم پر کیا کیا فضل نازل فرمائے۔مخلصین پاکستان اس وقت تک نصرت جہاں ریزروفنڈ میں ستائیس لاکھ ہیں ہزار تین سونوے روپے کے وعدے کر چکے ہیں۔جب کہ بیرونِ پاکستان وعدے پاکستانی سکہ میں اکتیس لاکھ بیس ہزار آٹھ سوروپے ہیں۔یعنی بیرونی ممالک مجموعی طور پر پاکستان سے آگے نکل گئے ہیں۔اس رقم میں ابھی وہ زائد وعدے جو انگلستان میں دوستوں نے کیے ہیں وہ شامل نہیں۔اس طرح کل وعدے ۵۸ لاکھ سے اوپر جاچکے ہیں۔میں نے