سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 127 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 127

127 ڈاکٹر بڑا مخلص ہونا چاہئے اور بڑا دعا گو ہونا چاہئے کیونکہ اس وقت ہمارا عیسائیوں سے سخت مقابلہ ہے وہ بہت پیسہ خرچ کرتے ہیں۔جو چیز بڑی ضروری ہے وہ اخلاص ہے اور عادتِ دعا ہے اس کے بغیر تو ہمارا ڈاکٹر وہاں کام نہیں کر سکتا۔اگر ڈاکٹر میں اخلاص نہیں ہوگا، تو وہ ہمارے لیے پرابلم بن جائے گا اگر وہ دعا گو نہیں ہوگا تو وہ اپنے مریض کے لیے پرابلم بن جائے گا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ اس سکیم کے تحت ڈاکٹر صاحبان کے لیے ضروری نہیں کہ وہ پوری زندگی کے لیے وقف کریں۔انہیں اختیار ہوگا کہ تین سے چھ سال کے لیے وقف کریں اور اگر چھ سال کے لیے وقف کریں تو یہ بہتر ہے اور عمومی طور پر اگر ساری عمر کا وقف کریں تو زیادہ موجب ثواب ہے۔اور جماعت کے نئے میڈیکل سینٹروں کے لیے حضور نے یہ اصولی ہدایت دی کہ ایسی کوئی سکیم نہ بنائیں کہ ہمارے کندھے اس کا بوجھ نہ برداشت نہ کر سکیں۔اور اس ضمن میں کا عور ( گیمبیا) میں کام کرنے کیلئے مکرم ڈاکٹر سعید صاحب کا ذکر فرمایا کہ انہیں کلینک کی ابتدا کے لیے پانچ سو پونڈ دیئے گئے تھے اور بعد میں جب کلینک نے ترقی کی تو اس کو وسعت دے دی گئی تھی۔حضور نے فرمایا کہ ہمارے میڈیکل سینٹر کا جو ڈاکٹر ہے لوگ اسے مبلغ بھی سمجھتے ہیں۔اس لیے آپ کو وہاں جانے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں اچھی طرح پڑھنی ہوں گی۔مغربی افریقہ کے جن چھ ممالک میں مجلس نصرت جہاں نے کام کرنا تھا، انہیں بھی مرکز کی طرف سے یہ ہدایت بھجوائی گئی کہ وہ طبی ادارے اور سکول قائم کرنے کے لئے اپنے ممالک میں سکیمیں تیار کر کے مرکز بھجوائیں۔اور یہ بھی مسئلہ تھا کہ جو چندہ اس سکیم کے لئے جمع ہو گا اسے کس طرح استعمال کیا جائے۔ابھی چندہ جمع کرنے کا کام شروع ہوا تھا اور پوری رقم بھی جمع نہیں ہوئی تھی۔اور یہ بات بھی ظاہر تھی کہ اگر جماعت کو تسلسل کے ساتھ ان چھ ممالک میں ہسپتال اور سکول کھولنے ہیں تو ہر سال خاطر خواہ رقم نئے اداروں کے قیام اور تعمیر پر خرچ کرنی پڑے گی۔اور مجلس نصرت جہاں کا چندہ کوئی مستقل چندہ تو نہیں تھا۔تین سال کے بعد اس میں وصولی ختم ہو جانی تھی۔اس سے کچھ سال قبل فضل عمر فاؤنڈیشن کا چندہ بھی محدود مدت کے لئے جمع کیا گیا تھا۔اور فضل عمر فاؤنڈیشن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے اس رقم کو کاروبار میں لگا دیا گیا تھا اور جو آمد ہوتی تھی اسے مختلف پراجیکٹوں پر خرچ کیا جاتا تھا۔جب نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کا چندہ جمع ہونا شروع ہوا تو بہت سے بزرگان نے