سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 126 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 126

126 ۱۹۷۰ء کو جلس نصرت جہاں کا دفتر دفتر پرائیویٹ سیکر یٹری میں منتقل کر دیا گیا۔اپنے ابتدائی سالوں میں یہ مجلس براہ راست حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی زیر نگرانی کام کرتی رہی۔جولائی ۱۹۷۰ ء تک انچاس (۴۹) اسا تذہ اور گیارہ (۱۱) ڈاکٹروں نے اس سکیم کے تحت وقف کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کی تھیں۔مگر اور بہت سے اساتذہ اور ڈاکٹروں کی ضرورت تھی۔اس سکیم کے اجراء کے وقت ہی حضور نے اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ مغربی افریقہ کے ان چھ ممالک میں جماعت کو میں میڈیکل سینٹر قائم کرنے چاہئیں اور ان کو چلانے کے لئے تھیں ڈاکٹروں کی ضرورت تھی۔اساتذہ کی ضرورت کے متعلق بھی یہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ سر دست ستر اسی ایم اے، ایم ایس سی اساتذہ اور میں چالیس بی اے، بی ایس سی ٹرینڈ اساتذہ درکار ہوں گے۔ایک ڈاکٹر ز کمیٹی بھی قائم کی گئی مکرم کرنل ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب اس کے صدر اور مکرم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اس کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔اس سکیم میں حضور کے ارشاد کے تحت پہلی ترجیح میڈیکل سینٹروں کا قیام اور دوسری ترجیح سکولوں کا قیام رکھی گئی۔لیکن حضور کا منشاء یہ تھا کہ بالآخر دونوں میدانوں میں متوازی ترقی ہو۔جیسا کہ حضور نے ۲۶ جون کے خطبہ جمعہ میں گیمبیا کے حوالے سے ارشاد فرمایا : اور میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر گیمبیا میں مثلاً چار ہیلتھ سینٹر کھل جائیں تو ہم وہاں ہر سال ایک نیا ہائی سکول کھول سکتے ہیں۔ہم نے ان دونوں میدانوں میں متوازی طور پر بڑی سرعت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے لیکن وہاں پہلے طبی امداد کے مراکز کھلنے چاہئیں۔دوست اپنے نام پیش کریں اور محمد اسمعیل صاحب منیر جو متعلقہ کمیٹی کے سیکرٹری مقرر کیے گئے ہیں وہ مطلوبہ کوائف کے متعلق اخبار میں اعلان کرائیں اور بار بار اعلان کرا ئیں۔میرے خیال میں ہمارے احمدی ڈاکٹروں کی ایک مجلس بھی ہے اس کی میٹنگ بھی بلائیں اور پھر انہی کے سپر د کر دیں کہ سب کے کوائف کو مد نظر رکھ کر منتخب کریں کہ کون زیادہ موزوں ہے؟ (۸) یہ بات بھی بہت اہم تھی کہ جو ڈاکٹر وہاں جائیں انہیں احساس دلایا جائے کہ وہ ایک عام ڈاکٹر کی حیثیت سے وہاں نہیں جار ہے بلکہ جماعت احمدیہ کے مشنری ڈاکٹر کی حیثیت سے وہاں جارہے ہیں اور انہیں اس کے لئے مطلوبہ اعلیٰ معیار حاصل کرنا ہو گا۔۳۰ اگست ۱۹۷۰ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے احمدی ڈاکٹروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا جو مطالبہ ہے وہ یہ ہے کہ