سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 125 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 125

125 مجلس نصرت جہاں کے انتظامی ڈھانچے کا قیام مجلس نصرت جہاں کے مقاصد صرف چندہ جمع کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتے تھے۔اس کے لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ بڑی تعداد میں ڈاکٹر صاحبان اور اساتذہ آگے آکر اپنی زندگیاں وقف کے لئے پیش کریں اور مغربی افریقہ جا کر وہاں کے لوگوں کی بے لوث خدمت کریں۔اور ان اہم امور کو چلانے کے لئے ایک انتظامی ڈھانچے کی بھی شدید ضرورت تھی جو مستقل بنیادوں پر مغربی افریقہ میں جماعت کے طبی اور تعلیمی اداروں کو چلائے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے تقریباً دوماہ کے بعد نائب وکیل المال مکرم سمیع اللہ سیال صاحب کو ارشادفرمایا کہ جو چندے اب تک ہمارے پاس آئے ہیں ان کا ریکارڈ ہم آپ کو دیتے ہیں۔آئندہ سے آپ نصرت جہاں ریز روفنڈ کے انچارج ہوں گے۔اس کے بعد مکرم سمیع اللہ سیال صاحب نے نصرت جہاں ریز روفنڈ کے سیکریٹری کی حیثیت سے کام شروع کیا۔کچھ عرصہ بعد مکرم چوہدری عبد الشکور صاحب سابق مبلغ لائبیریا بھی ان کے ساتھ اس کام میں شامل ہو گئے۔اور تقریباً ایک سال کے بعد ریز روفنڈ کا کام مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب ناظر دیوان کے سپرد ہو گیا۔(۶) پاکستان میں اس سکیم کے لئے وعدہ جات اور چندہ کے حصول کا کام تیزی سے شروع ہو گیا۔اور ۷ار جولائی ۱۹۷۰ ء تک پاکستان کی جماعتوں سے ہیں لاکھ کے وعدے وصول ہو چکے تھے اور اس قلیل مدت میں مرکز میں اڑھائی لاکھ روپیہ نقد وصول ہو چکا تھا۔(۷) مجلس نصرت جہاں کا قیام مغربی افریقہ میں نئے میڈیکل سینٹر اور سکول کھولنے اور ان کو چلانے کے لئے مجلس نصرت جہاں کے نام سے ایک نئی مجلس قائم کی گئی۔مکرم مولا نا محمد اسماعیل منیر صاحب کو اس مجلس کا پہلا سیکر یٹری مقرر کیا گیا۔اور حضور نے ارشاد فرمایا کہ وکیل التبشیر مجلس نصرت جہاں کی کمیٹی کے صدر ہوں گے اور مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے اس کے پہلے صدر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔جماعت کے سینئر مبلغ مکرم مولا نانسیم سیفی صاحب اس کے نائب صدر مقرر کیے گئے اور مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر، مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب اس کمیٹی کے ممبران مقرر ہوئے۔پہلے مجلس نصرت جہاں کا دفتر وکالت تبشیر میں تھا اور یکم اکتوبر