سلسلہ احمدیہ — Page 124
124 بڑے شامیانے لگوا دئیے گئے اور دوستوں کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ ان شامیانوں کے نیچے یا درختوں کے سایہ میں کھڑے ہوں تا کہ دھوپ کی شدت سے محفوظ رہ سکیں۔اس روز ربوہ کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔نہ صرف ربوہ بلکہ اردگرد کے اضلاع سے ہزاروں احباب حضور کے استقبال کے لئے جمع تھے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی گاڑی ربوہ کی حدود میں داخل ہوئی تو فضا پُر جوش نعروں سے گونج اُٹھی۔حضور کی گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی اور دوست اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے تھے۔آخر گاڑی مسجد مبارک کے قریب اس جگہ پر آکر رکی۔یہاں پر سب سے پہلے امیر مقامی مکرم صاحبزادہ مرزا امنصور احمد صاحب نے حضور کو پھولوں کا ہار پہنایا اور پھر باقی بزرگان اور جماعتی عہدیداران نے حضور کا استقبال کیا اور شرف مصافحہ حاصل کیا۔(۴) پاکستان میں نصرت جہاں سکیم کا اعلان اپنی آمد کے بعد ۱۲ جون ۱۹۷۰ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مسجد مبارک میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور اسی خطبہ میں پاکستان میں نصرت جہاں سکیم کے لئے تحریک فرمائی۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق پاکستان کے لئے ایک سکیم بنائی ہے۔اور فرمایا کہ پاکستان میں فارن ایکھینچ کی تنگی رہتی ہے اور ہمیں باہر بھیجنے کے لئے روپیہ نہیں ملتا۔ہمیں یہاں پر قربانیاں دینی پڑیں گی اور خدا ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ روپیہ بھجوانے کے لئے انشاء اللہ سہولت پیدا ہو جائے گی۔حضور نے تحریک فرمائی کہ مجھے پاکستان میں دوسوا ایسے مخلصین کی ضرورت ہے جو اس سکیم میں پانچ ہزار روپیہ فی کس دیں۔اور ہر وعدہ کنندہ اس میں سے دو ہزار روپے نومبر تک ادا کر دے۔اور باقی تین ہزار روپیہ اگلے تین سال میں ادا کر دیے جائیں۔اور دوسو ایسے خلصین کی ضرورت ہے جو دو دو ہزار روپیہ ادا کرنے کا وعدہ کریں اور اس میں سے ایک ہزار روپیہ نومبر تک ادا کر دیں اور دو ہزار ایسے دوست سامنے آئیں جو پانچ پانچ سو روپیہ ادا کریں اور اس میں سے دوسوروپیہ نومبر تک پیش کر دیں۔اور باقی رقم تین سال میں ادا کریں۔اور جو اس سے کم دینا چاہیں تو ان سے وعدہ نہیں لیا جائے گا وہ جتنا چندہ ادا کر سکتے ہیں اس مد میں جمع کرا دیں۔(۵)