سلسلہ احمدیہ — Page 123
123 انگلستان میں پریکٹس کر رہے تھے۔حضور نے انہیں ارشاد فرمایا کہ مجھے ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔تم اخلاص، محبت اور ہمدردی سے میری آواز پر لبیک کہو۔لیکن اگر تم رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش نہیں کرو گے تو میں تمہیں حکم کروں گا اور میر احکم بہر حال ماننا پڑے گا۔کیونکہ حکم عدولی تو وہی کرے گا جو احمدیت کو چھوڑنے کو تیار ہوگا۔اور جو احمدیت سے نکل جائے اس کی نہ مجھے ضرورت ہے اور نہ میرے اللہ کو۔اس پر بہت سے احباب نے اخلاص سے اپنی خدمات پیش کیں۔(۳) پاکستان واپسی اور ربوہ میں استقبال حضرت خلیفہ المسیح الثالث اس تاریخی دورہ کے اختتام پر لندن سے کراچی پہنچے اور لاہور سے ہوتے ہوئے ۸ / جون ۱۹۷۰ء کو بخیر و عافیت ربوہ واپس پہنچے۔گوا بھی مرکز میں با قاعدہ طور پر اس سکیم کا اعلان نہیں ہوا تھا لیکن جو ڈاکٹر صاحبان حضور سے ملاقات کے لیے آتے حضور انہیں وقف کر کے افریقہ جانے کی تلقین فرماتے۔جب حضور لاہور کے ایئر پورٹ پہنچے تو ان کے استقبال کے لیے مکرم ڈاکٹر سید غلام مجتبی صاحب اور آپ کے صاحبزادے مکرم سید تا ثیر مجتبی صاحب بھی حاضر تھے۔حضور نے ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر ارشاد فرمایا وہاں افریقہ میں آپ کی ضرورت ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس کے بعد مکرم ڈاکٹر غلام مجتبی صاحب ۱۹۷۱ء میں وقف کر کے غا نا گئے اور ایک طویل عرصہ وہاں پر خدمت کی اور پھر آپ کے بعد مکرم ڈاکٹر تاثیر مجتبی صاحب نے بھی غانا میں ایک طویل عرصہ خدمت کی توفیق پائی۔چونکہ پاکستان بالخصوص پنجاب میں جون کا مہینہ شدید گرمی کا مہینہ ہوتا ہے۔اس لئے جب حضور کراچی پہنچے اور ابھی وہاں سے ربوہ پہنچنا تھا تو حضور نے احباب جماعت کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے کراچی سے امیر صاحب مقامی مکرم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کو فون پر یہ پیغام بھجوایا کہ چونکہ شدید گرمی کا موسم ہے اور دھوپ بھی آجکل بہت تیز ہے اس لئے استقبال کے وقت احباب کو سڑکوں کے کنارے دھوپ میں نہ کھڑا ہونے دیا جائے۔دوسری طرف بڑی تعداد میں دوست حضور کے استقبال کی سعادت حاصل کرنے کے لئے جمع ہورہے تھے اور تمام راستوں پر شامیانے لگواناممکن نہ تھا، اس لئے مکرم امیر صاحب مقامی کی ہدایت کے مطابق یہ کام کیا گیا کہ آٹھ مقامات پر بڑے