سلسلہ احمدیہ — Page 113
113 ے رمئی کو حضور احمد یہ سکینڈری سکول فری ٹاؤن کے معائنہ کے لئے تشریف لے گئے اور طلباء سے خطاب فرمایا۔حضور نے دیگر نصائح کے علاوہ فرمایا کہ اب آپ کے خلاف امتیازی سلوک برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔اگر آپ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں تو یقیناً آپ کامیاب ہوں گے اور دنیا کی لیڈری آپ کے ہاتھ میں ہوگی۔تب ان لوگوں سے جنہوں نے آپ لوگوں کو صدیوں اپنے ظلم و تشدد کا نشانہ بنائے رکھا آپ کہہ سکیں گے کہ تم ہمارے ملک کو Exploit کرنے آئے تھے لیکن ہم محبت سکھانے آئے ہیں کیونکہ اسلام کسی سے نفرت نہیں سکھاتا۔محبت اور ہمدردی سکھاتا ہے۔اگر آپ کو علم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کتنی محبت کرتا ہے، اگر آپ اپنی ذمہ داریاں سمجھ لیں اور ان کے مناسب حال محنت کریں تو آپ ایک دن دنیا کے رہبر بن جائیں گے۔افریقہ کی نئی نسل کے کندھوں پر بہت عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔میری دعا ہے کہ آپ ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوں۔شام کو فری ٹاؤن کے اکابرین اور معززین حضور سے ملاقات کیلئے آئے ، جن میں تین پیراماؤنٹ چیف صاحبان بھی شامل تھے۔رات کو آٹھ بجے حضور نے ایک عشائیہ میں شرکت فرمائی جو قائم مقام گورنر جنرل صاحب کی جانب سے دیا گیا تھا۔(۴۴) ۸ رمئی کو جمعہ کے روز حضور نے فری ٹاؤن کے علاقہ لیسٹر (Leister) میں ایک نئی مسجد، مسجد نذیر علی کا افتتاح فرمایا۔حضور نے مسجد کا دروازہ کھول کر مسجد کا افتتاح فرمایا اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس کا ساتھ ساتھ کر یول (Creole) زبان میں ترجمہ کیا جارہا تھا۔حضور نے فرمایا کہ میں آپ میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں۔آپ اس پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوفرمایا I shall give you a large party of Islam۔حضور نے فرمایا کہ آپ کو یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جماعت احمد یہ کوئی کلب نہیں۔ایک کلب یا ایسوسی ایشن اور ایک الہی جماعت میں بہت فرق ہوتا ہے۔کسی کلب یا ایسوسی ایشن کی بنیاد باہمی خیر سگالی اور افہام و تفہیم پر ہوتی ہے۔اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت اللہ تعالیٰ سے طاقت حاصل کرتی ہے۔ہمارے قادر و توانا خدا نے یہ جماعت ایک خاص مقصد کے لئے قائم فرمائی ہے اور سید نا حضرت مہدی علیہ السلام کو ایک خاص مقصد کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔وہ مقصد