سلسلہ احمدیہ — Page 102
102 بن آدم صاحب کر رہے تھے۔حضور نے فرمایا کہ پہلی بار آپ میں سے اکثر کو یہ موقع ملا ہے کہ آپ مجھ سے دعائیں لیں اور خلافت کی برکات سے بالمشافہ حصہ پائیں۔اگر چہ میں تو آپ کے لئے ہر روز دعا کرتا ہوں۔جب میں یہاں آیا اور میں نے تقدس کا نور آپ کی پیشانیوں پر چمکتا ہوا دیکھا تو میرے جذبات نے ایسا جوش مارا جسے بیان کرنا ممکن نہیں۔میں نے سوچنا شروع کیا کہ یہ ایک تنہا اکیلی آواز تھی جو آج سے اسی سال پہلے قادیان سے بلند ہوئی۔وہ آواز اپنے نفس کو بلند کرنے کے لئے نہیں اُٹھائی گئی تھی۔وہ آواز اللہ کے جلال کو ظاہر کرنے کے لئے اُٹھائی گئی تھی جو بڑی طاقتوں والا ہے۔وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت اور مقام کو ظاہر کرنے کے لئے اُٹھائی گئی تھی۔جب وہ آواز بلند ہوئی تو ساری دنیا اس آواز کو خاموش کرنے کے لئے کھڑی ہو گئی لیکن انسان کی متحدہ سازش اور طاقت اس آواز کو خاموش نہ کر سکی۔جب میں نے آپ کو اللہ تعالیٰ کی تعریف اور حمد کے ترانے گاتے دیکھا اور سنا تو میں نے محسوس کیا کہ یہ وہی آواز ہے جو آپ کے مونہوں سے صدائے بازگشت کی طرح ٹکرا کر بلند ہورہی ہے۔اس کے بعد حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا کرنے کی اہمیت بیان فرمائی۔نماز جمعہ و عصر کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نبی اکرم ﷺ کی شان میں ایک پر اثر تقریر فرمائی۔اس کے بعد وہاں پر موجود احباب نے حضور سے شرف مصافحہ حاصل کیا۔اس تقریب کے بعد حضور سالٹ پانڈ کے مشن ہاؤس تشریف لے آئے۔جب حضور اندر تشریف فرما ہوئے تو باہر سے احمدی بچیوں کی آواز آرہی تھی جو طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا کا قصیدہ گارہی تھیں۔حضور نے اس موقع پر فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ غانا کے لئے ایک ریز روفنڈ قائم کر دیا جائے جو میں ہزارسی ڈی (CD) کا ہو۔اس کے لئے سو ایسے احمدی چاہئیں جو سوسوسی ڈی دے سکیں۔اس پر ایک احمدی دوست مکرم الحاج حسن عطا صاحب نے اسی وقت اپنی طرف سے عطیہ پیش کیا۔شام کو حضور واپس اکر ا کے لئے روانہ ہوئے اور راستے میں حضور نے ایک مسجد کا سنگ بنیادرکھا۔(۳۰) اگلے روز ۲۵ /۱ اپریل کو حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ایمبسڈر ہوٹل کے وسیع ہال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔اس میں پندرہ کے قریب اخبارات اور ریڈیو کے نمائندگان نے شرکت کی۔حضور نے تشریف لانے کے بعد فرمایا کہ آپ کی زبان بہت میٹھی ہے میں نے اس کے کچھ