سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 103 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 103

103 الفاظ سیکھ لئے ہیں۔پھر حضور نے وہ الفاظ دہرائے۔یہ سن کر سب حاضرین بہت محظوظ ہوئے۔حضور پر یس کا نفرنس میں بھی تکلف کے ماحول کو پسند نہیں فرماتے تھے اور اخباری نمائندگان سے بھی اس طرح گھل مل کر بات کرتے تھے کہ پریس کانفرنس بھی ایک زندہ دل، مہذب اور علمی محفل کا رنگ اختیار کر لیتی تھی۔حضور نے اس کا نفرنس میں فرمایا کہ اسلام اس ملک اور دیگر ممالک کے لئے بنی نوع انسان کی بحیثیت انسان ہمسری اور برابری کا پیغام لایا ہے اور ہم اس پیغام کے نقیب اور علمبردار ہیں۔ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ کمیونزم صرف انسانی ضروریات (Needs) کا سوال اُٹھاتا ہے لیکن Needs کی تعریف نہیں کرتا۔اسلام کہتا ہے رب العالمین نے جس قدر صلاحیتیں ہمارے اندر پیدا کیں ان کی پوری نشو و نما کے لئے مادی اسباب بھی پیدا کئے۔اس لئے ہر انسان کا حق ہے کہ اسے وہ تمام سہولتیں ملیں جن سے اس کی صلاحیتوں کی مکمل نشو و نما ہو سکے۔اسلام کم سے کم پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ زیادہ سے زیادہ کے حصول پر زور دیتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ ہم کسی ذاتی غرض کے لئے نہیں آئے۔خدمت کے لئے آئے ہیں اگر آپ لوگ اپنی خدا داد صلاحیتوں کو صحیح طور پر استعمال کریں تو بعید نہیں آپ کو اللہ تعالی امریکہ اور یورپ کا استاد بنادے۔آپ کسی سے کم نہیں ہیں۔میرا ارادہ ہو رہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ انگلستان یا سکاٹ لینڈ میں افریقہ کے احمدیوں میں سے ایک مبلغ بھجوا دوں۔ایک اخباری نمائندے نے سوال کیا کہ آپ کا ہم لوگوں کے نام کیا پیغام ہے۔آپ نے اس کے جواب میں فرمایا : Let humans learn to love humans اور فرمایا کہ میں ایک پیغام اپنی جماعت کے لئے بھی چھوڑ کر جارہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ نے ایک حد تک اپنے ملک غانا کی خدمت کی ہے۔میری خواہش اور دعا ہے کہ اور خدمت کریں اور سکول اور کالج اور میڈیکل سینٹر کھولیں اور اپنے دل کی کھڑکیاں کھول دیں تاکہ اللہ تعالی اندر داخل ہو سکے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ صلاحیتوں کا مالک بنایا ہے۔میری دعا ہے کہ آپ اپنے خالق کے محبوب بندے بن جائیں۔پر یس کا نفرنس کے بعد ہوٹل کے اسی ہال میں جماعت احمد یہ غانا کی مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔اس میں حضور نے فرمایا کہ میں نے سوچا ہے کہ میں ایک ریز روفنڈ قائم کردوں تا کہ آپ کی ترقی کی