سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 2 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 2

2 شک نہیں کہ سلسلہ کی اشاعت کے لئے ایک مستقل فنڈ کا قیام ایک ایسی بات ہے کہ جس میں حصہ لینے کی خواہش ہمیشہ ہی دلوں میں پیدا ہوتی رہے گی۔اس لئے ایسے لوگوں کے شامل ہونے کی بھی کوئی صورت ضرور ہونی چاہئے۔(۱) اسی خطبہ میں حضور نے فرمایا کہ پہلے کوئی بھی شخص سال میں پانچ روپیہ چندہ ادا کر کے اس تحریک میں شامل ہوسکتا تھا لیکن اب اس میں شامل ہونے والوں کو سال میں اپنی ایک ماہ کی آمد کے برابر چندہ پیش کرنا ہوگا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ۱۹۵۳ء میں با قاعدہ طور پر اس تحریک کومستقل کرنے کا اعلان فرمایا۔حضور نے ۲۷ نومبر ۱۹۵۳ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا: آج میں حسب دستور سابق تحریک جدید کے وعدوں کے لئے جماعت میں تحریک کرنا چاہتا ہوں۔پہلے دفتر کے لوگوں کے لئے بھی کہ جن کے لئے ابتداء تین سالوں کی تحریک کی گئی اور ان تین سالوں کو بعض لوگ ایک ہی سال سمجھتے رہے۔پھر وہ تحریک دس سال تک ممتد کی گئی۔پھر اس کے لئے ۱۹ سال کی حد لگائی گئی۔اس سال خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ ۱۹ سال بھی پورے ہو جاتے ہیں۔اس اثنا میں تحریک جدید کے کام کو وسیع کرنے کے بعد خدا تعالیٰ نے میرا ذہن اس طرف پھیرا کہ تمہارے منہ سے جو عر صے بیان کروائے گئے تھے۔وہ محض کمزور لوگوں کو ہمت دلوانے کے لئے تھے ورنہ حقیقت جس کام کے لئے تو نے جماعت کو بلایا تھا۔وہ ایمان کا ایک جزو ہے۔اور ایمان کو کسی حالت میں اور کسی وقت بھی معطل نہیں کیا جا سکتا اور اسے کسی صورت میں ترک نہیں کیا جاسکتا۔(۲) اس طرح ۱۹۳۴ ء سے لے کر ۱۹۴۴ ء تک جنہوں نے تحریک جدید کے لئے مالی قربانیاں کیں وہ تحریک کے دفتر اول میں شامل ہوئے اور جنہوں نے اس کے بعد اس اپنی مالی قربانیاں پیش کیں انہیں دفتر دوئم میں شامل کیا گیا۔لیکن اس کے بعد ایک طویل عرصہ یہ صورت حال یونہی رہی اور حضرت مصلح موعود کے دور میں کسی نئے دفتر کا اعلان نہیں فرمایا گیا۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دور خلافت کا اعلان ہوا تو حضور نے ۲۲ اپریل ۱۹۶۶ء کے خطبہ جمعہ میں تحریک جدید کے آغاز اور اس تحریک سے حاصل ہونے والی برکات کا ذکر کر کے فرمایا: