سلسلہ احمدیہ — Page 93
93 انہوں نے یہ ارادہ بھی ظاہر کیا کہ نائیجیریا میں اسلام کی تبلیغ کے لئے ایک ریڈ یوٹیشن بھی کھولا جائے گا۔“ غانا کا دورہ ۱۸ ۱ پر میل کو حضرت خلیفتہ اسیج الثالث اللہ تعالی کے فضل سے نائیجیریا کا کامیاب دورہ پکھل کر کے نانا کے دارالحکومت اکرا کے لئے روانہ ہوئے۔جہاز گیارہ بجے اکرا کے ایئر پورٹ پر پہنچا۔اکرا کے ایئر پورٹ کی چھت پر ، بالکونیوں پر اور میدان میں ہر طرف سفید لباس میں ملبوس احمدیوں کا ہجوم نظر آرہا تھا جو اپنے امام کے استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔حضور نے جہاز کی کھڑکی سے ہی ہاتھ ہلا کر اس بے تابانہ استقبال کا جواب دیا۔ایک اندازے کے مطابق دس ہزار احمدی یہاں پر موجود تھے۔آج ان کے لئے عید کا دن تھا۔استقبال کرنے والوں کی خوشی کا یہ عالم تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ ہر طرف مسکراہٹیں ہی مسکراہٹیں بکھری ہوئی ہیں۔حضور جہاز سے باہر تشریف لائے تو مکرم مولا نا عطاء اللہ کلیم صاحب امیر جماعت احمدیہ غانا مکرم عبد الوہاب صاحب آدم مشنری هیچیمان، مکرم مرزا لطف الرحمن صاحب اور مکرم مولوی غلام نبی صاحب مبلغ کماسی نے حضور کا استقبال کیا۔حضور کا استقبال کرنے والوں میں غانا کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ اور مواصلات Haroona Esseku جو کہ احمدی تھے، غانا کے وزیر مملکت مکرم بی۔کے۔آدما(B۔K۔Adama) اعلیٰ حکام اور دیگر ممتاز شخصیات آئی ہوئی تھیں۔مختلف اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے نمائندے بھی موجود تھے۔مختلف Circuits کے احمدی احباب نے اس موقع پر اپنے لئے مختلف یونیفارم منتخب کئے تھے اور وہ ان میں ملبوس اپنی جماعتوں کے بینروں کے تلے منظم انداز میں کھڑے تھے۔مختلف احباب نے حضور سے شرف مصافحہ حاصل کیا اور ریڈیو اور ٹی وی کے نمائندوں نے حضور کا انٹرویو لیا۔غانا میں رواج ہے کہ جب کوئی چیف نکلتا ہے تو ایک شخص اس کے اوپر چھتری کا سایہ رکھتا ہے اور یہ اس شخص کے لئے بھی ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے۔اس موقع پر ملک کے وزیر آدما صاحب نے خود درخواست کی کہ انہیں موقع دیا جائے کہ وہ حضور کے لئے چھتری پکڑیں اور جب حضور وہاں کے مقامی احمدیوں سے ملتے رہے تو وہ مسلسل بڑی سی روایتی چھتری پکڑ کر ساتھ چلتے رہے۔جب حضور ایئر پورٹ سے باہر تشریف لائے تو ہزاروں