سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 698 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 698

698 پر حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی کی پیشگوئیوں کو چسپاں کیا۔یہ سب کچھ حاضرین کے لئے حیران لن تھا۔ان میں سے ایک نوجوان نے اُٹھ کر سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ آپ کی جماعت کے بانی کے وجود میں مسیح کی آمد ثانی ہو چکی ہے اور وہ بھی آج سے اسی سال پہلے ظاہر ہو کر فوت بھی ہو چکے ہیں۔یہ ایک اتنا بڑا واقعہ ہوا ہے اور ہمیں کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ہمیں تو بتلایا گیا تھا کہ جب مسیح آئیں گے تو دنیا میں شور مچ جائے گا۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مسیح آکر چلے بھی جائیں اور ہمیں خبر بھی نہ ہو۔انہیں جواب دیا گیا کہ آپ نے انجیل نہیں پڑھی۔حضرت مسیح نے کہا ہے کہ میری آمد چور کی مانند ہوگی۔جیسے چور رات کو آتا ہے اور اپنا کام کر کے چلا جاتا ہے اور گھر والوں کوخبر تک نہیں ہوتی اسی طرح میرا دوبارہ آنا ہوگا۔متی کی انجیل کے باب ۴۲ میں ہے، ” پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے تمہارا خداوند کس دن آئے گا۔لیکن یہ جان رکھو کہ اگر گھر کے مالک کو معلوم ہوتا کہ چور رات کے کون سے پہر آئے گا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگانے دیتا۔اس لئے تم بھی تیار رہو کیونکہ جس گھڑی تم کو گمان بھی نہ ہوگا ابن آدم آجائے گا۔دوسرے اگر آپ نے پہلے یہ خبر نہیں سنی تھی تو میں آج جو آپ کو بتلا رہا ہوں۔یہ جواب سن کر حاضرین عش عش کر اُٹھے اور ایک خوشگوار فضا پیدا ہوگئی۔خلافت ثالثہ کے دوران فرینکفرٹ مشن ہاؤس میں سلسلہ کی کتب کی نمائش کا مستقل انتظام بھی کیا گیا۔۱۹۷۴ء کے بعد بہت سے پاکستانی احمدی احباب نے جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کی۔اور اس طرح بہت سے پاکستانی احمدی جرمنی میں آباد ہو گئے۔جوں جوں ان کی آمد بڑھنی شروع ہوئی اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ ان تمام دوستوں کو کسی نہ کسی حلقہ سے وابستہ کیا جائے تاکہ یہ با قاعدہ نظام جماعت کا حصہ بن کر رہیں۔چنانچہ اس قسم کا پہلا حلقہ اوفن باغ (Offenbach) میں بنایا گیا تھا۔جماعتی عہد یداروں کا انتخاب کیا گیا اور چندے کے وعدے لکھوائے گئے۔پھر یہ سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔شروع میں نئے آنے والے پاکستانی احمدی زیادہ تر فرینکفورٹ میں یا اس کے قریب آباد ہوئے تھے۔اب جماعت کے مبلغین نے ان کی تربیت کے لئے منظم کوششوں کا آغاز کیا۔جن جرمن احباب نے اسلام کو قبول کیا ان میں ایسے بھی شامل تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہنمائی کے نتیجہ میں یہ سعادت حاصل کی۔ان نو مسلم احباب میں ایک ہدایت اللہ ہو بش صاحب بھی تھے۔وہ نو جوانی میں ایک آزاد منش زندگی بسر کر رہے تھے اور اس حالت میں آپ نے