سلسلہ احمدیہ — Page 651
(1) الفضل ۲۷اکتوبر ۱۹۷۱ ء ص ۳ (۲) الفضل ۱۲ اکتوبر ۱۹۷۰ ص ۳ گیمبیا 651 خلافت ثالثہ میں بھی اس ملک میں جماعت کی ترقی کا سفر جاری رہا۔اور اس کے ساتھ ساتھ مخالفت بھی ہوتی رہی۔۱۰ مئی ۱۹۶۹ ء کو گیمبیا کے ایک گاؤں مصر میں مبلغ سلسلہ مکرم داؤد احمد حنیف صاحب اور گیمبیا کے ایک احمدی سیا کا سایا نگ (Siakan sayang) صاحب کے ذریعہ جماعت کا قیام عمل میں آیا لیکن مقامی چیف اور ڈسٹرکٹ چیف نے شدید مخالفت شروع کر دی۔اور وہاں پر ایک نواحمدی مکرم حمزہ صاحب کا ایک عربی مدرسہ بھی تھا اسے مخالفین نے مسمار کر دیا اور احمدیوں سے ان کی زمینیں بھی چھین لی گئیں۔کچھ کمزور ایمان والے اس کے نتیجے میں پیچھے ہٹ گئے لیکن ان میں سے کئی ثابت قدم رہے۔ان میں مکرم ابوبکر نیا بالی صاحب اور مکرم محمد فاطی صاحب قابل ذکر ہیں۔آہستہ آہستہ مخالفت کا دور ختم ہو گیا اور جہاں پر وہ مدرسہ گرایا گیا تھا وہاں جماعت نے ایک مسجد بنائی۔۱۹۶۳ء میں ہی گیمبیا کے انتہائی شمال میں بصے کے قصبے میں بیعتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔جون ۱۹۶۹ ء میں حکومت نے گیمبیا میں تیسرے مبلغ کے ویزے کی منظوری دی تو مکرم اقبال احمد غضنفر صاحب گیمبیا پہنچے اور آپ کو بصے میں جماعت کا مبلغ مقرر کیا گیا۔غیر احمدی امام نے جماعت کی مخالفت تیز کر دی اور لوگوں کو احمدیوں کی مجلس میں آنے سے روکنا شروع کر دیا اور حکام کو یہ تاثر دیا کہ احمدیوں کی وجہ سے نقض امن کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔حالانکہ وہ خود فساد کو بھڑ کانے کی کوششوں میں مصروف تھا۔آہستہ آہستہ وہاں پر جماعت کی مخالفت کم ہوگئی اور ۱۹۷۴ء میں جماعت نے اس قصبے میں ایک میڈیکل سینٹر اور ۱۹۸۲ء میں ایک سکول قائم کیا۔سب سے پہلے مرکز آنے والے اور امامِ وقت کی زیارت کا اعزاز حاصل کرنے والے احمدی مکرم تیجان بابو کرفون ( Tijan Baboucarfoon) صاحب تھے۔۱۹۷۰ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کے دورہ گیمبیا کا ذکر علیحدہ جگہ پر کیا گیا ہے۔مکرم مولا نا چوہدری محمد شریف صاحب گیمبیا میں جماعت کے پہلے مبلغ تھے۔۔آپ گیمبیا کے