سلسلہ احمدیہ — Page 522
522 دن بند دروازوں کے پیچھے غیر متعلقہ سوالات میں وقت ضائع کر کے خفت سے بچا گیا اور پھر اس کارروائی کو شائع بھی نہیں ہونے دیا کہ اس کارروائی کو چلانے والوں کی علمی قابلیت کا راز فاش نہ ہو جائے۔اگر اصل موضوع پر بھی سوالات کا سلسلہ چلتا اور کچھ غیر متعلقہ سوالات بھی ہو جاتے تو یہ بات پھر بھی کچھ قابل درگزر ہوتی۔لیکن یہاں تو عملاً یہ ہوا کہ ساری کارروائی ہی غیر متعلقہ موضوعات پر ہوتی رہی۔ہم نے جب اس بابت پروفیسر غفور صاحب سے سوال کیا تو پہلے تو وہ سوال کو سمجھ نہیں پائے اور ہم سے دریافت کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے کہ یہ سوالات کئے گئے۔جب ہم نے غیر متعلقہ سوالات کی مثالیں دے کر سوال کو واضح کیا تو ان کا جواب تھا۔' یہ Relevant چیزیں نہیں ہیں۔Relevant چیزیں بالکل دوسری ہیں۔Relevant چیزیں وہی ہیں کہ قادیانیوں کا Status کیا ہے؟ ان کی پوزیشن کیا ہے؟ ختم نبوت کے معاملے میں ان کا اپنا عقیدہ کیا ہے؟ یہی چیزیں Relevant تھیں۔اسی پر بحث ہوئی ہے ساری۔“ ان کے جواب سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک جن سوالات کا ہم نے حوالہ دیا تھا وہ ان کے نزدیک بھی متعلقہ سوالات نہیں تھے۔جب کہ یہ سوالات بار بار اس کارروائی کے دوران کئے گئے تھے۔لیکن پڑھنے والے خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا یہ کہنا درست نہیں کہ Relevant موضوعات پر ساری بحث ہوئی تھی۔ہم اس ساری بحث کو بیان کر چکے ہیں۔ان میں سے اکثر سوالات تو مقررہ موضوع سے دور کا تعلق بھی نہیں رکھتے۔البتہ جب یہ سوال ہوا کہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام کیا سمجھتے ہیں تو یہ گمان ہوتا تھا کہ شاید یہ بحث اپنے اصل موضوع پر آ جائے مگر افسوس ایک بار پھر غیر متعلقہ سوالات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔اصل موضوع تو یہ تھا کہ جو شخص آنحضرت کو آخری نبی نہیں سمجھتا، اس کا اسلام میں Status کیا ہے۔ہم نے انٹرویو میں مکرر پروفیسر غفور صاحب سے سوال کیا کہ کارروائی میں غیر متعلقہ سوالات کیوں کئے گئے۔اس پر پھر ان کا جواب وو ” وہ سارے سوال Relevant ہی تھے۔“ اب پڑھنے والے اس کے متعلق خود اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں۔